16 فروری 2012 - 20:30

کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر اور ملک بھر میں جہاں کہیں اس کا بس چلے یہ چڑیل کسی نہ کسی شیعہ کا خون پیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اور جب اس کا شیطانی شکم زیادہ تنگ کرے تو بیسیوں معصوم جانیں اس کے دسترخوان پر پیش کردی جاتی ہیں۔ آج بھی پاراچنار کا مرکزی بازار اس چڑیل کے لئے تر نوالہ ثابت ہوا اور اس نے بیگناہ مؤمنین کے لہو سے ہولی کھیلتے ہوئے اپنی ابلیسی پیاس بجھائی۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ جنت کا ٹکڑا پاراچنار کئی سالوں سے شیطانی حصار میں جکڑا ہوا ہے جہاں اس کے باشندوں کو بنیادی انسانی ضروریات تک سے محروم کرکے بھوک، پیاس، موسم اور بیماریوں کے ساتھ ساتھ لشکرِ یزید سے نبرد آزما ہوتے ہوئے اپنی بقا کی جنگ میں الجھا رکھا گیا ہے۔ خدا کے ان بندوں نے کمالِ استقامت سے اپنی کربلا کا حق ادا کیا اور ہنوز کررہے ہیں۔ لیکن آج اس کے ایک بازار میں ہونے والے خودکش دھماکے نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ جہاں اس کے رہنے والے معصوم اور بیگناہ لوگوں کو بنیادی ضروریات تک سے محروم رکھا گیا، وہیں باطلان اور یزیدی سپاہ کو ہر طرح کا اسلحہ، بارود اور سازوسامان وافر مقدار میں اپنی سفاکیت کا کھیل کھیلنے کے لیئے فراہم ہے۔ تادمِ تحریر اس جانگداز سانحے میں بیس سے زائد مؤمنین جامِ شہادت نوش فرما چکے ہیں جبکہ بیسیوں جانکنی کے عالم میں شہادت کے کنارے کھڑے داخلِ جنت ہونے کے منتظر ہیں۔  ساتھ ہی ایک بڑی تعداد ان مظلومین کی ہے جو نجانے کب تک بریدہ جسموں کے ساتھ زندگی کی قید کاٹیں گے۔ ایک دھماکہ اور ہوا۔ کئی جانیں چلی گئیں، کئی زخمی ہوگئے۔ حکومت کی جانب سے مذمتی بیانات بھی جاری ہوگئے ۔ اس بات کی یقین دہانی بھی کروا دی گئی کہ ظالمین کے ساتھ آہنی پنجوں سے نمٹا جائے گا۔ شہداء کی میتوں کی چند لاکھ روپوں میں کاغذی قیمت بھی لگ چکی ہوگی۔ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت کی یقین دہانی بھی کروائی جاچکی ہوگی۔ میری طرح کئی قلم کار کاغذ پر اپنے قلم کے ذریعے دل کی بھڑاس بھی نکال رہے ہوں گے اور چند نوجوان کسی شہر کی کسی شاہراہ پر مذمتی ریلی بھی نکال رہے ہوں گے۔ انہی احتجاج کناں چند جوانوں کو انتظامیہ بلوا کرنے کے الزام میں دھر بھی لے گی جو چند دن حوالات کاٹ کر خود ہی رہا بھی ہو جائیں گے۔ آپس میں اس سانحے پر اظہارِ افسوس بھی کیا جارہا ہوگا اور ایم ایس پر اسکی مذمت بھی جاری ہوگی۔ پرسوں دیگر شہداء کی مانند شہدائے پاراچنار کا بھی سوئم منایا جائیگا۔ چہلم تک کچھ اور اجتماعات منعقد ہوں گے جن میں دھواں دھار تقاریر کے ساتھ دشمن کو للکارا بھی جائیگا۔ مجروح مؤمنین چند روز سرکاری ہسپتالوں میں چند ٹکوں کی دوائیں دے کر فارغ کردئے جائیں گے۔ شہداء کے بوڑھے والدین کو امدادی چیک کی طفل تسلیاں دی جائیں گی اور کسی کو نہیں معلوم کہ انکی بیوائیں انکے یتیموں کی پرورش کا سالوں پر محیط کوہِ گراں کیونکر سر کر پائیں گی۔جس طرح یہ تمام حالات میں دیکھ رہا ہوں، پوری قوم دیکھ رہی ہے، بالکل اسی طرح سے یہ دشمن بھی دیکھ رہا ہے۔ ہر سانحے کی طرح آج بھی مجلسِ ابلیس میں ظاہری فتح کا جشن منایا جارہا ہوگا اور ان تمام حالات پر شیطانی قہقہے بلند ہورہے ہوں گے کہ کیسے اس امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے ٹولیوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر ٹولی کے ہاتھ میں اپنا پرچم، اپنا رہبر اور اپنا حلقہ!!! اب چاہے تو ایک ایک کرکے مارو یا دل چاہے تو ایک ہی حملے میں کئی کو چیونٹیوں کی مانند مسل ڈالو۔ کوئی مائی کا لال ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میری تمام "یا علی مدد" اور "لبیک یا حسین" کی صدا بلند کرنے والوں سے دست بستہ گذارش ہے کہ خدا کے واسطے اکٹھے ہوجائیں۔ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں اور دورِ حاضر کی اس کربلا کو فتح کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈالر اور ریال کی پروردہ اس چڑیل کی پیاس بجھانے کے لیے ہم سب کا خون اس کے سامنے پیش کیا جاچکا ہے۔ آج ہمارے کئی بھائی اور بہنیں اس کالی ماتا کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اور کل ہماری باری بھی ہوسکتی ہے۔ شہادت ہماری میراث ہے لیکن اتحاد کی قوت کے ساتھ شانہ بشانہ جہاد کرتے ہوئے شہادت کا درجہ کچھ اور ہے۔  ابھی ہمیں یہ طویل جنگ لڑنا ہے اور غازی بننا ہے، تاوقتے کہ ہم اپنے وارث و پیشوا کی سرکردگی میں جامِ شہادت نوش فرمائیں۔ ہم کتنے خوشن صیب  ہیں جن کا رہبر زندہ ہے اور جن کے ہاتھوں میں پرچمِ علمدار بھی ہے۔ میرے بھائیو! خدا کے واسطے اختلافات کو بھلاؤ اور اپنے اندر کے خوابیدہ مختار کو جگاؤ۔ اس ابلیسی ٹولے میں اتنی ہمت ہی نہیں کہ حسین کے ماتمیوں کی ہیبت کو برداشت کرسکے۔ وہاں ہمارے ہی جیسوں نے حزب اللہ کی صورت میں اس چھوٹے ابلیس کے بڑوں کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں۔ اگر ہم بیدار ہوگئے تو اس چھوٹے شیطان کو بحیرہ عرب بھی قبول نہیں کرنے والا۔ یہ اسی جہنم کی آگ میں جلے گا، جو صرف اسی کے لئے بھڑکائی گئی ہے۔ اس کو واصلِ جہنم کرنے کے لیئے پوری قوم کا فقط ایک نعرہ حیدری کافی ہے۔ لیکن ہو نعرہ ایک ہی ہونا چاہیئے۔خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ظالم کو اسکے اس مقام تک پہنچا دے، جس کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاد رہے کہ آج کے دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد تادم تحریر 26 تھی جبکہ سرکاری افواج نے بھی شہیدوں کے خاندانوں کو پرسہ دینے کی بجائے احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر فائرنگ کردی جس کے نیجے میں شہداء کی تعداد آٹھ سے تجاوز کرگئی ہے اور یوں آج پاراچنار میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور تحفظ امن کے دعویداروں نے امن کو غارت کردیا ہے۔ پاراچنار دہشت گردوں کے عمومی فرار کے بعد سے امن کا گہوارہ تھا لیکن چار ماہ قبل ملکی افواج نے امن قائم کرنے کے بہانے مقامی سنی بھائیوں کی بجائے طالبان اس علاقے میں بسادیئے جس کا نتیجہ آج نکل گیا۔دھماکے اور فائرنگ کی تفصیلات کے لئے رجوع فرمائیں:

پاراچنار میں بم دھماکا فوج کی فائرنگ، 34 شہید درجنوں زخمی / اپڈیٹس