15 فروری 2012 - 20:30

يورپ کے اقتصادي بحران کي ايک بڑي وجہ مالي بدعنواني ہے -

ابنا: يورپ ميں مالي بدعنواني اہم مسئلے ميں تبديل ہو چکي  ہے اور سروے رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ يورپي ممالک کے تين چوتھائي عوام کا خيال ہےکہ  مالي بد عنواني ان کے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے -

   يورپي کميشن کي جانب سے کی گئ تحقيقات کے مطابق سروے ميں حصہ لينے والے آدھے سے زيادہ لوگوں کا خيال ہے کہ گزشتہ تين برسوں ميں ان کے ملک ميں بدعنواني ميں اضافہ ہوا ہے –

يورپي يونين کے رکن تمام ستائس ممالک ميں کي جانے والي اس تحقيق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک کے عوام ، سرکاري اور نجي اداروں ميں بدعنواني کي طرف سے تشويش ميں مبتلا ہيں –

رپورٹ کے مطابق يورپي يونين کے عوام کا خيال ہے کہ بد عنواني ، ان کے ملک کي معيشت ميں ايک روايت کي شکل اختيار کر چکي ہے - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ بد عنواني کے خلاف سرگرم ايک غير سرکاري عالمي تنظيم ، ٹرانسپيرنسي  انٹرنيشنل نے اعلان کيا ہے کہ يورو زون ميں قرضوں کے بحران کے حل کي راہ ميں بدعنواني رکاوٹ بني ہوئي ہے -

اس تنظيم نے جس کا ہيڈکوارٹر برلن ميں ہے ، ايک رپورٹ شائع کرکے بتايا ہے کہ يورو زون ميں مالي بحران کسي حد تک ، رشوت اور ٹيکس کي چوري کے خلاف اقدامات ميں حکام کي کمزوري کا بھي نتيجہ ہے جو قرضوں کے بحران کي اصل وجہ ہے –

تنظيم کے ريسرچ شعبے کے سربراہ رابن ہڈسن نے اس سلسلے ميں کہا ہے کہ يورو زون کا بحران ، کمروز مالي نظام ، عدم شفافيت اور عام بجٹ ميں بد انتظامي کي علامت ہے - انہوں نے اٹلي اور يونان سے مالي بدعنواني کے خلاف زيادہ کوشش کي اپيل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بد عنواني وسيع ہوتي ہے تو عوام کو ہر سطح پر دباؤ کا احساس ہوتا ہے -........

/169