ابنا: ڈاکٹر احمدی نژاد نے آج پاکستان روانہ ہونے سے قبل تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں بیرونی ملکوں کی بڑے پیمانے پر فوجی موجود گي اور ان کے فوجی اقدامات سے علاقہ بدامنی اور بہت سے مسائل سے دوچار ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں بدامنی اور مشکلات زیادہ ہیں اور علاقے کے مسائل کو حل کرنے اور امن و ثبات قائم کرنے کے لئے اب تک بہت سے منصوبے پیش کئے گئے لیکن چونکہ بیرونی ممالک اپنے مفادات کے حصول کے درپئے ہیں لھذا وہ علاقے کے ممالک کے مفادات کو نظر میں نہیں لاتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارے منصوبے ناکام ہوچکے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ علاقائي مسائل کو علاقائي ممالک کےمواقف کونظر میں رکھ کر مفاہمت نیز ان ملکوں کی ثقافت و حقوق کا احترام کرتےہوئے حل کیا جانا چاہیے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاداسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایران پاکستان اور افغانستان کی سربراہی نشست میں شرکت کریں گے۔
اسلام آباد ایر پورٹ پر آج پاکستان کے اعلی عھدیداروں نے صدر احمدی نژاد کا استقبال کیا۔ ایران کےصدر ڈاکٹراحمدی نژاد، پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور افغانستان کے صدر حامد کرزئي اپنے دوروزہ اجلاس میں مختلف میدانوں میں سہ فریقی تعلقات کا جائزہ لیں گے اور ان تعلقات میں استحکام لانے کی راہوں پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ یاد رہے ایران پاکستان اور افغانستان کا پہلا سربراہی اجلاس تہران میں منعقد ہوا تھا۔ ......../169