14 فروری 2012 - 20:30

بحرين کے عوام نے اپني انقلابي تحريک ايک سال سے ايسے عالم ميں جاري رکھي ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس خطے کے مظلوم ترين عوام ہيں کيونکہ دنيا نے ان کي مظلوميت اور ان پر ہونے والے انسانيت سوز جرائم کي طرف سے آنکھيں بند کرليں ہيں اور مظلوم بحريني قوم کو اپني زباني اور اخلاقي حمايت سے بھي محروم کررکھا ہے -

ابنا: دنيا نے اپني آنکھيں اور اپنے کان بند کرلئے ہيں - نہ اس کو بحرين ميں عوام کي وحشيانہ  سرکوبي نظر آتي ہے اور نہ ہي بحريني عوام کي صدائے مظلوميت ان کے کانوں تک پہنچ رہي ہے- يہ ايسي حالت ميں ہے کہ کوئي دن ايسا نہيں جاتا جب آل خليفہ حکومت اور اس کے اتحاديوں کے فوجي اس ملک کے  عوام کوبدترين تشدد کا نشانہ نہ بناتے ہوں -

  جرائت کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ بحرين کے عوام کي انقلابي تحريک مشرق وسطي اور شمالي افريقا ميں اسلامي بيداري کے نتيجے ميں اٹھنے والي واحد انقلابي تحريک ہے جو اسقدر مظلوم واقع ہوئي ہے کہ  دنيا نے اس کو زباني حمايت سے بھي محروم رکھا ہے -

  ايک سال سے اس ملک ميں سعودي عرب ، متحدہ عرب امارات اور چند ديگر عرب ملکوں کے فوجيوں نے  آل خليفہ حکومت کے ساتھ مل کے بحرين ميں عوام کي سرکوبي اور ان کے قتل عام کا سلسلہ جاري رکھا ہے ليکن دنيا کي انساني حقوق کے دفاع کي دعويدار کسي بھي عالمي تنظيم نے اس سلسلے ميں کوئي کاروائي نہيں کي ہے -

  دلچسپ بات يہ ہے کہ خود شاہ بحرين کے معين کردہ تحقيقاتي کميشن کے سربراہ شريف بسيوني نے اپني رپورٹ ميں اعلان کيا ہے کہ بحرين کے سيکورٹي اہلکاروں نے عوام کے احتجاجي مظاہروں کو کچلنے ميں تشدد سے کام ليا ہے، اور مظاہروں کے دوران نيز حکومت کي مخالفت کے الزام ميں گرفتار ہونے والوں کو  جيلوں ميں  ايذائيں دي گئي ہيں،  ليکن عالمي اداروں کي طرف سے آل خليفہ حکومت کے خلاف نہ صرف يہ کہ کوئي اقدام نہيں کيا گيا بلکہ  کوئي آواز بھي نہ  سنائي دي-

دنيا کے عوام ايک سال سے آل خليفہ حکومت کے وحشيانہ مظالم پر مغربي دنيا،يورپي يونين اور انساني حقوق کے دفاع کے دعويدار اداروں کي مجرمانہ خاموشي کا مشاہدہ کررہے ہيں-

امريکا اور يورپي ملکوں نے ليبيا کے معاملے ميں  براہ راست ميدان ميں آنےاور فوجي کاروائي سے بھي دريغ نہيں کيا ليکن بحرين ميں انساني حقوق کي پامالي سے انہوں نے اپني آنکھيں بند کررکھي ہيں اور انہيں عوام کي سرکوبي اور  وہ وحشيانہ جرائم جو آل خليفہ حکومت کھلے عام انجام دے رہي ہے ، نظر نہيں آتے - اس ميں دورائے نہيں ہے کہ بحرين ميں عوام کي سرکوبي امريکا اور ديگر مغربي ملکوں کي مکمل حمايت سے جاري ہے -

  بحرين کے سلسلے ميں قابل توجہ  بات يہ ہے کہ امريکا نے نہ صرف يہ کہ بين الاقوامي اداروں ميں اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کے عالمي سطح پر اس ظالم حکومت کي مذمت نہيں ہونے دي ہے بلکہ عوام کي انقلابي تحريک کو کچلنے ميں اس حکومت کا ساتھ بھي ديا ہے ،  اور اس سے بھي زيادہ قابل افسوس بات يہ ہے کہ عالمي ذرائع ابلاغ عامہ نے بھي امريکا کے مفادات کے تحفظ کے لئے اور واشنگٹن کے حکام کي ہدايت پر بحرين کے عوام کي انقلابي تحريک اور ان پر ہونے والے وحشيانہ مظالم کو نظر انداز کيا ہے -  سوال يہ ہےکہ کيا بين الاقوامي اداروں کي خاموشي  بحرين کے عوام کي انقلابي تحريک کو متاثر کرسکتي ہے؟ اور کيا آل ِخليفہ حکومت اور اس کي اتحادي عرب حکومتوں کے فوجي عوام کو انقلابي تحريک جاري رکھنے سے روک سکتے ہيں؟گزشتہ ايک سال کے دوران  بحرين ميں ملکي اور غير ملکي فوجيوں نے انقلابي مظاہرين پر براہ راست فائرنگ کي، ان پر زہريلي گيس کي شيلنگ کي، ان کا قتل عام کيا اور انہيں  انواع و اقسام کے تشدد کا نشانہ بنايا ليکن ان کے انقلاب کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکے -

حقيقت يہ ہے کہ آل خليفہ حکومت کے پيکر ميں دراڑ پڑچکي ہے  اور شاہي حکومت کا شيرازہ بکھر رہا ہے –ان حالات ميں سعودي عرب جيسي رجعت پسند عرب حکومتوں اور مغربي دنيا کي حمايت ممکن ہے کہ آل خليفہ حکومت کي زندگي کے کچھ دن بڑھا دے ليکن اس حکومت کو بچانے اور عوام کي انقلابي تحريک کو کاميابی سے ہمکنار ہونے سے روک نہيں سکتي -.....

/169