14 فروری 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے خلاف کینڈا کے وزیر خارجہ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینڈا کی موجودہ حکومت خود کو امریکہ کی نوقدامت پسند حکومت کی شکست خوردہ میراث کی مالک سمجھتی ہے۔

ابنا: کینیڈا کے وزیرخارجہ نے صیہونی حکومت کے اخبار یروشلم پوسٹ سے انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ رامین مہمان پرست نے ایران کے ایٹم بنانے کی کوششوں کے جاری رہنے اور ایران میں لیبیا کے تجربہ دوہرانے کے خام خیالی کا جواب دیتےہوئے کہا کہ ہم اس بیان کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ نچلے ترین سفارتی معیاروں پر بھی نہیں اترتا ہے لھذا کینیڈا کی جانب سے اس طرح کے بیانات پر ہمیں کسی طرح کا تعجب نہیں ہے۔

مہمان پرست نے کہا کہ کینیڈا کے وزیر خارجہ جان برڈ کو یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ آئي اے ای اے کے بار بار کے اس اعلان کہ بعد کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اس کی بھر پور نگرانی میں ہے اور اس کے قانون سے منحرف ہونے پر مبنی کسی طرح کا ثبوت نہیں ملا ہے تو وہ کس ثبوت کی بنا پر یہ مضحکہ خيز الزام لگارہے ہیں کہ ایران ایٹم بم بنارہا ہے۔

مہمان پرست نے کہا کہ ایسا لگتا ہےکہ کینڈین وزیر خارجہ کو علاقے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں ورنہ وہ ایران اور لیبیا کو آپس میں نہ ملادیتے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کہ پڑھے لکھے طبقے نے اپنے وزیر خارجہ کے اس بیان پر شدید برہمی ظاہر کی ہے۔
........ 
/169