اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اطلاعات کے مطابق جمعیۃ العمل الاسلامی کے رکن ہشام الصباغ نے پیر کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ حکومت کے مخالفین نے بحرین کی سیاسی صورتحال کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور ملک کی تمامتر سیاسی سرگرمیاں مخالفین کے ہاتھ میں ہے اور ملک کے تمام چوک اور تمام اسکوائرز پر عوام ہی عوام نظر آرہے ہیں اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کو آل خلیفہ کے بادشاہ سمیت کوئی بھی چھپا نہیں سکتا۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کے بادشاہ نے حال ہی میں جرمن جریدے اشپیگل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ملک میں مخالفتوں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین کے سیاسی عمل پر مخالفین کے تسلط نے آزادی کی تحریک کا ایک سال گذرنے پر، آل خلیفہ کے جاسوسی ایجنسیوں اور فوج اور بیرونی جارحین کو بھاری شکست سے دوچار کیا ہے اور آل خلیفہ کی حکومت عوام کو ان کے مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکی ہے بلکہ عوام کے مطالبات روز بروز وسیع تر ہوگئے ہیں۔الصباغ نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت متعدد غلطیاں کرچکی ہے لیکن ان غلطیوں سے سبق لینے کی اہلیت بھی کھوچکی ہے چنانچہ اب بھی وہ حماقتوں کا ارتکاب کررہی ہے؛ اور سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ آل خلیفہ کی مطلق العنان حکومت سیاسی راہ حل کے لئے راستہ ہموار کرنے کی غرض سے گولی کا سہارا لے رہی ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ سے وابستہ ذرائع ابلاغ بحران کو سیاسی گفتگو کے ذریعے حل کرنے کے دعوے کررہے ہیں لیکن آل خلیفہ کے گماشتے اسی حال میں سڑکوں پر عوام کے خلاف تشدد آمیز کاروائیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں؛ وہ پرامن مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہيں اور خواتین کو گرفتار کرتے ہيں۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت نے حال میں انسانی حقوق کے شعبے میں فعال امریکی خواتین کو نہ صرف کام نہیں کرنے دیا بلکہ انہیں گرفتار کرکے کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھا اور پھر انہیں ملک بدر کردیا۔انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت نے ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا ہے۔انھوں نے کہا: ملت بحرین کا پیغام یہ ہے کہ وہ استبداد، آمریت اور مطلق العنانیت سے تھک ہار گئی ہے اور یہ حکومت مزید برقرار نہیں رہ سکے گی۔
........
169-110
تفصیل کے لئے روجوع کیجئے: