ابنا: سعودی عرب کے ایک شہری مجتہد بن حارث بن ہمام نے اپنی ویب سائٹ پر جو سعودی عرب کی ویکی لیکس کے نام سے مشہور ہو چکی ہے، آل سعود کی مالی اور اخلاقی بدعنوانیوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس ویب سائٹ پر فی الحال آل سعود کے جونیئر وزیر اور پروٹوکول آفس کے سربراہ عبدالعزیز بن فہد کی اخلاقی اور مالی بدعنوانیوں کی تفصیلات درج کی گئي ہیں۔
عبدالعزیز بن فہد اس ویب سائٹ کے مطابق سعودی خاندان کے اس شہزادے کے محل کروڑوں ڈالر کے ہیں اور اس نے الاہلی بینک، جنرل الیکٹرک، مرسیڈیز نیز دیگر مغربی کمپنیوں میں ساٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سعودی شہزادے کے پاس پانچ ذاتی طیارے ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ملین ڈالر ہے اور حکومت سعودی عرب ان طیاروں کی نگہداشت کا خرچہ برداشت کرتی ہے جو بیت المال سے دیا جاتا ہے۔ عبدالعزیز بن فہد کو سعودی اوجیہ نامی کمپنی میں غبن کرنے کے جرم میں اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا۔
یاد رہے کہ آل سعود کے شہزادے قوم کے پیسے کو مغربی ملکوں میں عیاشی اور بڑے بڑے جوئے خانوں میں لٹانے میں عالمی شہرت رکھتےہیں۔ سعودی عرب کی دولت، فیصلوں اور ہر چیز پر آل سعود کی اقلیت مسلط ہے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں عوام غربت کا شکار ہیں۔
ادھر علی الاحمد نامی صحافی اور تجزیہ نگار نے کہا ہےکہ انسانی حقوق کے بلند بانگ کرنے والی مغربی حکومتیں سعودی عرب میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر پردہ ڈال رہی ہیں۔ علی الاحمد نے کہا کہ انسانی حقوق کے دعویدار مغربی ملکوں کی نظر میں حجاز کے مظلوم باشندوں کے حقوق کی کوئي اہمیت نہیں ہے۔......... /169