29 جنوری 2012 - 15:57

مغربی ملکوں کی جنسی بے راہروی کے شغف میں امریکہ سر فہرست ہے۔

ابنا:  مذہبی جریدے ''ورلڈ کرسچن ڈائجسٹ نے کی ١٩٨١ء کی اشاعت میں امریکی معاشرہ کے اخلاقی کھوکھلے پن کا جو تجزیہ پیش کیا اس تجزیہ میں ایک غیر جانبدار قاری کو یہاں تک اعتراف ملتا ہے کہ امریکیوں کی بد اعمالیاں نقطہ عروج کو پہنچ چکی ہیں۔ جہاں پہنچنے کے بعد پہلی قومیں مستوجب عذ اب الہی بنتی رہی ہیں اور مورد قہر الہی بن کر صفحہ ہستی سے نابود ہو گئیں۔ اس تجزیہ کا ایک حصہ کا خلاصہ پیش ہے۔ امریکی قوم میں جنسی شغف اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ آج ملک بھر میں جنسی دیویوں کی پوجا ہو رہی ہے ۔جنسی دیویوں کی مورتیں فلمی صنعت ' ٹیلی ویژن ا ور پریس نے تراش رکھی ہیں۔بعض اوقات تو ان کی تراش خراش بہت ہی بھونڈی اور نا مناسب ہوتی ہے۔

بہر حال جو کچھ بھی ہے اس امر میں کلام نہیں کہ یہ جنسی دیویاںآج ہمارے ہاں موجود ہیں اور عوام کا جنسیاتی شغف ان کی جانب حد درجہ بڑھ چکا ہے کہ قدم قدم سُدوم اور عمورا کی یاد تازہ ہوتی ہے ۔( یہ بستیاں خدائی عذاب کی زد میں آئیں) تجزیہ کار ڈاکٹربلی گرام شہرہ آفاق عیسائی اسکالر لکھتے ہیں، یرمیا نبی نے کہا تھا۔'' اور ہر ایک اپنے ہمسائے کو فریب دے گا اور سچ نہ بولے گا ۔ انہوں نے اپنی زبان کو جھوٹ بولنا سکھایا ہے اور یہ لوگ بد کاری میں جانفشانی کرتے ہیں'' ( یرمیا باب ٩' آیت ٥) ۔آج لوگوں کو بعینہ یہی حالت ہے ۔ بدکاری و نشہ آور اشیاء کا استعمال میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

اس امر کی لاتعداد شہادتیں ہیں نشہ آور اشیاء کیوبا افیم کے ست سے بنی ہوئی دوائیں اور دیگر کیمیاوی مرکبات چین سے درآمد کرکے امریکہ سمگل کر رہا ہے تاکہ اس ملک کے لوگوں کی اخلاقی حالت کاملاََ تباہ ہو کے رہ جائے ۔ملک کے کم و بیش پچاس لاکھ ایسے انسان ہیں جنہیں ہمہ وقت نشہ میں دھت رہنے کی عادت ہے اور ان کا یہ مرض نہایت مزمن صورت اختیار کر چکا ہے۔بہرحال امریکہ کی اخلاقی حالت ( ٢٧ سال قبل کا) یہ تجزیہ امریکی عوام کی ناگفتہ حالت کا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے عبرت انگیز انجام سے مشرقی قومیں عبرت حاصل کریں ۔اسی طرح مشہور آسٹروی ماہر نفسیات کارل جنگ نے مغربی معاشرہ کی حالت زار کے بارے میں اپنی وفات سے قبل کہا تھا کہ ''ہمارے زمانہ کا کا سب سے بڑا روگ معاشرتی کھوکھلا پن ہے ۔'' ایک مادہ پرست معاشرہ جن اعلیٰ اخلاقی سماجی اقدار کو نظر انداز کرکے نفس پرستی لذت پرستی پر زور دیتا ہے ۔ اس کے بالخصوص نوجوان فیملی سسٹم کی بجائے مخلوط معاشرہ کو پسند کرتے ہیں جنسی بے راہ روی کے عادی نوجونوں میں شادی کا رحجان رفتہ رفتہ کم ہو رہا ہے اور جوڑوں کا بغیر شادی کے اکٹھے رہنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ اسلام اخلاقی 'سماجی اقدار کے قیام پر زور دیتا ہے۔لذت کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے لیکن اسے ذہنی سکون کو اور معاشرتی امن کی قیمت خریدا نہیں جا سکتا۔

ایسے تمام رحجانات جن کے باعث رفتہ رفتہ خاندان ٹوٹ جایا کرتے ہیں اور خودغرضی' غیرذمہ داری' بے ہودگی ' تشدد اور جرائم کو فروغ ملتا ہے ان کی اسلام نے حوصلہ شکنی کی ہے۔ اسلامی فلسفہ جس معاشرتی ماحول کو جنم دیتا ہے اس میں اور مادہ پرستی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کچھ لوگ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ خواہشات کو ہوا دینے یا کھلی چھٹی دینے سے انہیں ذہنی اور قلبی اطمینان ہرگز نصیب نہیں ہو سکتا۔مادہ پرست معاشرہ کی اس بیمار حالت کی کھلی علامت بے سکونی نظرآرہی ہیں۔انسان صبر و سکون ' اطمینان قلب 'امن اور تحفظ سے عاری ہو چکا ہے۔وہ ہستی باری تعالیٰ کا انکار تو کرسکتاہے مگر ان طاقتور قوانین قدرت کا انکار اس کے بس کی بات نہیں جو اپنی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینا خوب جانتا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو ایڈز کی بیماری خداتعالیٰ کی طرف سے دنیا پر سزا اور عذ اب کی شکل میں نازل کی گئی ہے۔ایڈز کی پھیلنے کی وجہ اور اس کے دنیا میں بڑھتے ہوئے اعداو شمار کی اصل وجہ درحقیقت دنیا میں پھیلنے والی حد درجہ کی بے حیا ئی اور آزادانہ غیر فطرتی جنسی اختلاط ہے یعنی اول تو یہ بیماری اُن لوگوں میں پھیلتی ہے جو ہم جنس پرست ہوتے ہیں ۔اور دوسرے جو شادی کے اصولوں کو نظر انداز کرکے فاحشہ عورتوں سے میل جول رکھتے ہیں ۔ایڈز کے موضی مرض کی کہانی اب صرف یورپ کے آزاد ملکوں کی ہی نہیں رہ گئی۔بلکہ ساری دنیا میں خطرناک شکل اختیار کرکے اندر ہی اندر پھیل رہی ہے۔ 
 ........

/169