اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بک اسٹال لگا کر اس میں شیعہ مکتب کے خلاف توہین آمیز کتب بھی اس اسٹال پر سجا دیں جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے ابتدائی طور پر کوئی ایکشن نہیں لیا اور جب امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے اراکین نے اسٹال انتظامیہ کے رکن طلبہ سے کہا کہ یہ قابل اعتراض ہٹایا جائے لیکن انھوں نے اس پرامن اور برادرانہ اپیل کا مثبت جواب دینے کی بجائے شیعہ طلبہ کو مناظرے کے چیلنج دینا شروع کئے۔ قابل ذکر ہے کہ بک سٹال پر "دستاویز ۔۔ شیعہ مسلمان یا کافر ۔ فیصلہ آپ کریں"، کے زير عنوان توہین آمیز کتاب رکھی گئی تھی۔امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشاور ڈویژن کے صدر ثاقب بنگش نے پشاور یونیورسٹی میں لگائے گئے بک سٹال میں متنازعہ کتب کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام کا فوری طور پر نوٹس لے۔انھوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کی ذیلی شاخ سٹڈی ایڈ فائونڈیشن فار ایکسی لینس (سیف) کی جانب سے لگائے گئے بک سٹال میں فرقہ وارانہ مواد پر مبنی کتب کی موجودگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) جامعہ پشاور میں مذہبی منافرت پھیلانے کی مرتکب ہو رہی ہے، لہٰذا اس روش کو فوری طور پر ترک کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جمعتہ المبارک کو وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی سے ملاقات کی جائے گی۔اس کے بعد آئی ایس او کے وفد نے وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی سے ملاقات کی اور وائس چانسلر نے مذہبی منافرت پھیلانے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔اسلام ٹائمز کے مطابق پروفیسر عظمت حیات نے متنازعہ بک اسٹال کے معاملے پر انتظامی سربراہ کی حیثیت سے معذرت کی اور وفدکے اراکین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جذبات سے کام لینے کی بجائے درست طریقے سے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے قبل امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے وفد نے بک اسٹال میں فرقہ وارانہ مواد پر مبنی کتب کی نمائش کے حوالے سے وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر عظمت حیات کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ ابنا کو ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق شیعہ طلبہ نے معاملے کو جمعیت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرکے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن جمعیت والوں نے ہٹ دھرمی دکھائی تو انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر سے رجوع کیا اور انتظامیہ کی مداخلت پر یہ مسئلہ فی الحال حل ہوچکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110