ابنا: انساني حقوق کے طرفداروں نے امريکي صدر باراک اوباما کے وعدے کے جھوٹے ثابت ہوجانے کے بعد ايک بار پھر گوانتانامو اور بگرام فوجي جيلوں کو بند کئے جانے کے مطالبے کو لےکر مظاہرہ کيا ہے مظاہرين نے اپنے مظاہرے کے دوران جو گذشتہ تين دنوں سے جاري ہے
امريکا کے دوہزار گيارہ نام کے قانون کو بھي منسوخ کئے جانے کا مطالبہ کيا جس کے تحت کسي بھي مشتبہ شخص کو محض شبہہ کي بنياد پر دہشتگردي کے الزام ميں نامعلوم مدت تک کے لئے جيل ميں بند رکھا جاسکتا ہے انساني حقوق کے حاميوں نے جو گوانتانامو کے قيديوں کے لباس کي ہي طرح نارنجي لباس پہنے ہوئے ہيں پير کو بھي وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کيا ان کا کہنا ہے کہ وہ يہ مظاہرے آئندہ گيارہ جنوري بدھ تک جاري رکھيں گے -
گيارہ جنوري وہ تاريخ ہے جب دس سال قبل اسي دن گوانتانامو کي جيل ميں قيديوں کا پہلا گروہ لايا گيا تھا انساني حقوق کے لئے کام کرنے والے کئي ديگر گروہوں منجملہ ايمنسٹي انٹرنيشنل نے بھي اعلان کيا ہے وہ بدھ کوہونے والے مظاہرے ميں شرکت کريں گے اور اس طرح کے مظاہرے پيريس ، ٹورنٹو، لندن، بريسلز اور برلين ميں بھي کئے جائيں گے -
امريکا ميں انساني حقوق کي ايک تنظيم کي ترجمان ہيلن شيٹنگر نے کہاکہ امريکي حکومت بنيادي آئين کو نظر انداز کرتے ہوئے لوگوں کو کسي بھي طرح کے مقدمے کا سامنا کرائے بغير جيلوں ميں بند کرديتي ہے -
واضح رہے کہ گوانتاناموجيل ميں قيديوں کا پہلا گروہ گيارہ جنوري سن دوہزار دو کو پہنچا تھا جس پر دہشتگردي ميں ملوث ہونے اور القاعدہ کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام لگايا گيا تھا - اگرچہ گوانتانامو جيل سے کچھ قيديوں کو رہا کيا جاچکا ہے مگر ابھي بھي بہت سے افراد کسي بھي طرح کے مقدمے کا سامنا کئے بغير جيلوں ميں بند ہيں اور ان سے انساني حقوق کے حاميوں کو بھي ملنے کي اجازت نہيں ہے ان قيديوں کے بارے ميں کسي کو يہ نہيں معلوم کہ وہ کب تک اس خو فناک جيل ميں بند رہيں گے - امريکي صدر باراک اوبامانے اپني انتخابي مہم کے دوران وعدہ کيا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس ميں پہنچتے ہي گوانتانامو کو بند کرديں گے ليکن ابھي تک انہوں نے اپنے اس وعدے پر عمل نہيں کيا ہے
- امريکي صدر باراک اوباما نے بائيس جنوري دو ہزار نو کو ايک حکمنامے پر دستخط کئے تھے جس ميں کہا گيا تھا کہ سن دوہزار نوکے آخرتک گوانتانامو جيل بند کردي جائے باراک اوباما نے اس بات کا اعتراف کيا تھا کہ يہ جيل امريکي اقدار کے منافي ہے اور اس سے پوري دنيا ميں امريکا کي ساکھ خراب ہورہي ہے - اب ايک ايسے وقت جب امريکا کے آئندہ صدارتي انتخابات ميں محض دس مہينے ہي باقي رہ گئے ہيں اوباما کے ترجمان جے کارني نے کہا ہے کہ اوباما ابھي بھي اپنے وعدے پر باقي ہيں مگر کيا اب امريکي عوام اور انساني حقوق کے حامي گروہ اوباما کے اس وعدے پر يقين کريں گے ؟ ................
/169