ابنا: عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں، شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں چند شرپسند عناسر فساد برپا کرنے کی ساشیں کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود مختاد پالیسیاں مرتب کی جائیں، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے مفاد ہے جسے ہر حالت میں ہونا چاہیے اور اس کی حمایت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ایسے دو راہے پر لاکر کھڑا کر دیا گیا جہاں لوگ پاکستانی ہونے پر فخر کرنے کے بجائے نفرت کررہے ہیں لہٰذا بلوچستان کے عوام کو خودمختاری دی جائے تاکہ بلوچ عوام کی محرومی کا ازالہ کیا جاسکے، انہوں نے کہا ملک میں معاشی اور تعلیمی انصاف کی ضرورت ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ فرقہ واریت کو ختم کیا جائے اور سب ایک جھنڈے تلے جمع ہوں۔ ایک اور سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ بہت سے سینئیر وزیر بھی تحریک میں شامل ہورہے ہیں لیکن فی الحال اس معاملہ کو زیر التوا رکھا ہوا ہے۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے مشترکہ اعلامہ پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں بسنے والوں کی واضح اکثریت مسلمان ہے۔ اس کے آئین کے مطابق اس ریاست میں ایسی کسی قانون سازی کی گنجائش نہیں جو قرآن اور سنت کے منافی ہو لہٰذا اس ملک میں عوام کی اکثریت کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق قرآن و سنت پر مبنی نظام کے قیام کی ضرورت ہے، جس میں معاشرے کے تمام طبقات کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔ ایسا نظام جو خودمختار ہو۔ جس کی پالیسیاں ملک کے اندر بنائی جائیں اور غیرملکی قوتیں اس کی پالیسیوں پر اثرانداز نہ ہوں۔ جس میں اسلامی قوانین، کلچر و تہذیب کو فروغ دیا جائے۔ ایک ایسے آزاد نظام کی تشکیل کے لیے سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اور دیگر میدانوں میں حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حقیقی تبدیلی کے لیے جو چیزیں لازمی ہیں ان میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں۔ ........./169