5 جنوری 2012 - 20:30

ترکی کے وزیرخارجہ داؤد احمد اوغلو نےتہران میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی۔جمعرات کی رات ہونے والی اس ملاقات میں جناب ڈاکٹر احمدی نژاد نے دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں علاقے کی حکومتوں اور قوموں کی ہوشیاری پر تاکید کی۔

ابنا: محمود احمدی نژاد نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران آزادی ، عدل و انصاف ، جمہوریت اور اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے حق کے اصول کو تمام قوموں کا حق سمجھتا ہے کہا کہ اس طرح عمل ہونا چاہئے کہ یہ اصول تمام قوموں کے لئے تسلیم کیا جائے اور حکومتیں عوام کے مطالبات پر توجہ دیتے ہوئے مفاہمت اور تعاون کا راستہ اختیارکریں۔

اس ملاقات میں احمد داؤد اوغلو نے علاقے اور دنیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے تعمیری کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ صلاح و مشورہ جاری رکھنا اور تعاون کی سطح میں اضافہ کا خواہاں ہے۔ترکی کے وزیر خارجہ داؤد احمد اوغلو دو طرفہ تعلقات اور علاقے ، خاص طور سے ، شام کی صورت حال کے بارے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے حکام کے ساتھ بات چیت اور صلاح و مشورے کے لئے بدھ کی رات تہران آئے تھے۔

داؤد احمد اوغلو کا دورۂ ایران علاقے کی موجودہ صورت حال ، خاص طور سے ، شام کی صورت حال کے پیش نظر کہ جہاں مخالفین شام کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں تاکہ شام اور علاقے میں اپنی سازشوں پر عمل درآمد کرسکیں خاص اہمیت کاحامل ہے۔

اسلامی جمہوریۂ ایران اور ترکی علاقے کے دو اہم اسلامی ملک ہیں اور دونوں ملکوں کے تعاون میں فروغ دونوں ملکوں ، علاقے کی قوموں نیز علاقے میں امن و سلامتی کی برقراری کے مفاد میں ہے اور اسی وجہ سے دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان مختلف سطح پرصلاح و مشورہ ضروری ہے۔

جیسا کہ صدر احمدی نزاد نے ترک وزیر خارجہ داؤد احمد اوغلو کے ساتھ ملاقات میں تاکید کی ایران نے غاصبوں اور تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے میں قوموں کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور ہمیشہ علاقے کی قوموں اور دنیا کے تمام حریت پسندوں اور انصاف پسندوں کے ساتھ رہے گا۔

اسلامی جمہوریۂ ایران نے اپنی خارجہ پالیسی کے اہم اصول کی بنیاد پر عوامی تحریکوں کی ، ان کے حقوق کے حصول کے لئے ، حمایت کی ہے اور اس سلسلے میں اس نے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا ہے۔ علاقے میں اسلامی بیداری کے اسباب وعلل کا پتہ لگانا اور اس کے

ثمرات کے تحفظ کے بارے میں مختلف اجلاسوں کا انعقاد نیز علاقائي اور بین الاقوامی اداروں میں قوموں کے حقوق کی آواز اٹھانا غاصبوں اور تسلط پسندوں کے مقابل قوموں کی حمایت میں ایران کے جملہ انسانی اقدامات میں شامل ہے۔ایران نے علاقے کے بعض ممالک میں عوامی تحریکیں شروع ہونے پر مغرب سے وابستہ آمرانہ حکومتوں کے مقابل ان تحریکوں کی حمایت کی اور قوموں کے جائز مطالبات پورے کئے جانے پر زور دیا ہے۔

علاقے کی تحریکوں میں اہم نکتہ ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر ہونا ہے۔جیسا کہ ایرانی قوم نے بتیس سال قبل مغرب سے وابستہ شاہی حکومت کا تختہ پلٹ کر اسلامی حکومت قائم کی تھی آج علاقے کی تمام قومیں بھی ایران کے اسلامی انقلاب کی تاسی کرتے ہوئے آمرانہ حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور عوامی حکومتوں کی خواہاں ہیں۔

ان حالات میں قوموں کے جائز حقوق کی حمایت میں اور انقلابوں کو ہائي جیک کرنے کی دشمنوں کی سازشوں کوناکام بنانے کے لئے علاقے کے اہم ممالک ،خاص طور سے ، اسلامی جمہوریۂ ایران اور ترکی کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ البتہ شام کے حالات علاقے کے دیگر ممالک کے حالات سے بہت مختلف ہیں۔

بعض مغربی ممالک کچھ علاقائی ممالک کے تعاون سے شام میں ، جو علاقے میں اسرائيل کے خلاف مزاحمت کا حامی ملک ہے ، بحران پیدا کرکے اس کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں تاکہ شام اور علاقے میں اپنی سازشوں پر عمل درآمد کرسکیں۔

شام علاقے کا ایک اہم ملک ہے اور وہ صہیونی ریاست کی تسلط پسندی اور دشمنوں کی سازشوں کی راہ میں حائل ہے۔اسی بناپر اس کو آج مختلف سازشوں کا سامنا ہے لیکن جیسے کہ شام کے صدر بشار اسد نے بارہا تاکید ہے شام کے عوام ان سازشوں کے سامنے ڈٹے بدستور ڈٹے رہیں گے۔

شام کے حقائق کے پیش نظر ترکی سمیت علاقے کے ممالک کو ہوشیار رہنا چاہئے اور امریکہ شام کے خلاف جو سازشیں کر رہا ہے وہ ان میں نہ پھنسیں کیونکہ خود ترکی کے وزیرخارجہ کے بقول سامراجی سازشوں سے عالم اسلام کو نقصان پہنچے گا۔ ......../169