3 جنوری 2012 - 20:30

بین الاقوامی مسائل کے تجزیہ نگار اور ماہر جناب لسجردی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے سینٹرل بینک پر پابندی کا اقدام بے سود اور شکست خوردہ ہے کیونکہ اقتصادی پابندیوں کے اعلان اور نفاذ میں کافی فاصلہ ہے اوراس کے ساتھ خود امریکہ اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔

ابنا: یونیورسٹی کے استاد اور بین الاقوامی مسائل کے تجزیہ نگار اور ماہر جناب حسین لسجردی نےکہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے سینٹرل بینک پر پابندی کا اقدام بے سود اور شکست خوردہ ہے کیونکہ اقتصادی پابندیوں کے اعلان اور نفاذ میں کافی فاصلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خطرات کے مقابلے میں دفاع کے عنوان سے پابندیوں کی راہ ہموار کی ہے لیکن امریکہ تنہا اس اقدام کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا اس کے لئے دوسرے ممالک کو بھی اپنے ہمراہ کرنا ضروری ہے لہذا اقتصادی پابندیوں کے اعلان سے لیکر ان کے نفاذ تک بہت بڑا فاصلہ ہے انھوں نے کہا کہ امریکہ کے اس اعلان میں بھی ماضی کی طرح اس کی شکست نمایاں ہے کیونکہ امریکہ اس سے قبل اقتصادی پابندیاں لگانے میں بالکل ناکام ہوچکا ہے اور تازہ پابندیوں میں بھی امریکہ کی شکست و ناکامی یقینی ہے۔ لسجردی نے کہا کہ امریکہ خود اقتصادی بحران کا شکار ہے لہذا اس کی طرف سے عائد پابندیوں میں کوئی جان نہیں ہے اور نہ ہی ان کی کوئی قانونی حیثیت ہے کیونکہ آج اکثر ممالک امریکہ کی تقلید کرنے سے گریزاں ہیں۔....... /169