30 دسمبر 2011 - 20:30

يمني عوام نے ايک بار پھر مظاہرے کئے ہيں اور ملک کے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کيا ہے -

ابنا: ہزاروں کي تعداد ميں يمني شہري دارالحکومت صنعا اور جنوبي شہر تعز کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے ملک کے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح اور اسکي کابينہ کے عہديداروں پر عالمي عدالت ميں مقدمہ چلانے اور انکي جائيداديں اور بينک اکاونٹ منجمد کئے جانے کا مطالبہ کيا-

مظاہرين نے اپنے ہاتھوں ميں ايسے بينرر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن ميں انقلابي اہداف کي تکميل کے حق ميں نعرے درج تھے-

مظاہرين نے اپنے ملک کے اندروني معاملات ميں امريکہ کي مداخلت کي مذمت ميں نعرے لگائے اور واشنگٹن پر عبداللہ صالح کو بچانے کي کوشش کا الزام لگايا-

مظاہرين نے خليج فارس تعاون کونسل کے منصوبے کي مخالفت ميں بھي نعرے لگائے جس کے تحت عبداللہ صالح کو عدالتي کاروائي سے تحفظ فراہم کيا گيا ہے-

يمن ميں عبداللہ صالح کي آمرانہ حکومت کے خلاف جنوري دوہزار گيارہ سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس کے دوران سيکڑوں افراد جاں بحق اور زخمي ہوئے ہيں-.......

/169