30 دسمبر 2011 - 20:30

العوامیہ کے امام جمعہ آیت اللہ شیخ نَمِر آلِ نَمِر نے کہا: ہم نے خدا پر توکل کیا ہے اور طاقت اور دھونس دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوتے اور آزادی و انسانی کرامت کا مزہ چکھنے تک آل سعود کے خلاف اپنا جہاد جاری رکھیں گے / ہم کسی بادشاہ اور امیر کے پاس نہیں جائیں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جزیرةالعرب کے نامور عالم دین اور منطقۃالشرقیہ کے العوامیہ شہر کے امام جمعہ آیت اللہ شیخ نَمِر آلِ نَمِر کل جمعہ کے خطبوں کے ضمن میں کہا: آج کے بعد وہ ہمیں ٹارچر، جیل اور موت سے نہیں ڈرا سکیں گے کیونکہ دھونس دھمکی اور جبر کا دور گذر گیا ہے اور ہر وہ حربہ جو ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے استعمال ہوگا خود بخود ٹوٹ جائے گا۔انھوں نے کہا: شہادت روز قیامت ہمارے درجات کی بلندی کا سرمایہ ہے اور فراموش شدہ اسیروں کی اسارت پر جتنے برسوں کا اضافہ ہوگا ان کے دفاع کے لئے ہمارے ارادے بھی اتنے ہی زیادہ مضبوط ہونگے اور ان کی رہائی کے لئے ہمارے مطالبات اتنے ہی راسخ ہونگے خواہ ان مطالبات کے حصول کے لئے ہمیں اپنی جان کا نذرانہ ہی کیوں نہ دینا پڑے۔شیخ نمر نے کہا: اگر کوئی چاہے کہ جو جبر و تشدد وہ بحرین میں روا رکھ رہے ہیں وہ ہمارے ساتھ بھی روا رکھے تو اس کو دندان شکن جواب دینا ہمار حق ہوگا؛ اگر آل سعود کی حکومت حرمت شکنیوں، لوگوں کے گھروں کے انہدام اور لوگوں کے مال و ناموس پر حملہ کرنا چاہے تو ہم اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونگے اور اپنے مال و ناموس کا دفاع کریں گے کیونکہ مال و ناموس کا دفاع انسان کا فطری اور شرعی حق ہے۔آیت اللہ شیخ نمر نے آل سعود کے سامنے سوال اٹھایا: کیا سیاست کا مفہوم یہی ہے کہ راتوں کو گھروں پر حملہ، چادر اور چاردیواری کی پامالی اور ہموطنوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کے لئے راتوں کو فائرنگ کا سہارا لیا جائے؟انھوں نے کہا: حکومت نے کہا کہ اس کے دروازے مذاکرات کے لئے کھلے ہیں لیکن ان کھلے دروازوں میں جو بھی داخل ہوا وہ حکومت کے بند دروازوں کے پیچھے لاپتہ ہوگیا۔آیت اللہ آل نمر نے کہا: اس کے باوجود ہم مذاکرات اور مشاورت والے لوگ ہیں لیکن سعودی حکام کی پالیسی گولی اور جبر و ستم ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے گھر کا دروازہ ان لوگوں کے لئے کھلا ہے جو ہمارے ساتھ مذاکرات اور گفتگو کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم کسی بادشاہ اور امیر کے پاس نہیں جائیں گے۔ انھوں نے کہا: ہمارے پاس ایسے نوجوان ہیں جو اپنے مُسَلَّمہ حقوق اور انسانی کرامت کے حصول کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے اور اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور جو شخص اپنی پامال شدہ انسانی عزت و کرامت و وقار کا خواہاں ہو وہ کبھی بھی چین سے نہیں رہ سکتا اور کوئی بھی قوت اس کے سامنے ٹک نہیں سکتی۔ شیخ آل نمر نے تمام شیعہ اور سنی اسیروں بالخصوص نامور شیعہ عالم دین شیخ توفیق العامر کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ہم اپنی آزادی اور کرامت و وقار کے درپے ہیں اور صرف اسی وقت چین سے بیٹھیں گے جب ہمارے تمام اسیر رہا ہونگے، حکومت کی طرف سے اندھادھند اور جعلی گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہوجائے اور جزیرہ نما شیلڈ کی فورسز بحرین سے نکل جائیں۔یت اللہ شیخ نَمِر آلِ نَمِر نے کہا: تمام شیعیان آل محمد (ص) اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ ستمزدہ اور ظلم و جبر کا شکار ہونے والے مظلوم انسانوں کی دستگیری کریں چاہے وہ جہاں بھی ہوں اور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ تمام مظلوموں اور خاص طور پر اپنے بحرینی بھائیوں کی مدد کریں؛ مذہب اور قوم کی تفریق کے بغیر تمام ملتوں کی مدد کرنی چاہئے، جزیرۃالعرب، بحرین، بریدہ، قطیف اور جدہ و احساء میں کوئی فرق نہیں ہے؛ اسلام وہ خمیہ ہے جس نے ان سب ایک جگہ اکٹھا کردیا ہے اور اپنے تمام مکاتب اور فرقوں کی حمایت کرتا ہے۔انھوں نے کہا: ہم آل خلیفہ، آل سعود یا آل صباح کے بندے نہیں ہیں بلکہ اللہ کے بندے ہيں اور صرف اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اپنے اوپر آنے والے مصائب اور مشکلات پر صبر کرتے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا کہ آل سعود کے فوجی عوام کے گھروں سے باز رہیں ورنہ ان اقدامات کے منفی نتائج کی پوری ذمہ داری حکمرانوں پر ہوگی۔انھوں نے علاقے کے عوامی انقلابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: علاقے کی قوموں کا حکمران خاندانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور سب کو یہ حق حاصل ہے کہ استبداد کے تسلط سے آزادی حاصل کریں۔ انھوں نے آل سعود اور آل خلیفہ کی تشہیری مہم کو مسترد کیا کہ بحرین میں انقلاب نہیں ہے بلکہ فرقہ وارانہ تنازعہ ہے، اور کہا: استبداد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور جبر و تشدد میں شدت لانے کا مقصد مطلق العنان قوت کے اقتدار کا تحفظ ہے۔مذہب اور قوم کی تفریق کے بغیر تمام ملتوں کی مدد کرنی چاہئے، جزیرۃالعرب، بحرین، بریدہ، قطیف اور جدہ و احساء میں کوئی فرق نہیں ہے؛ اسلام وہ خیمہ ہے جو ان سب کو ایک جگہ اکٹھا کردیتا ہے اور اپنے تمام مکاتب اور فرقوں کی حمایت کرتا ہے۔انھوں نے کہا: پر امن مظاہروں اور سرگرمیوں کے ذریعے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ ایک جائز حق اور شرعی ذمہ داری ہے اور کسی بھی اسلامی مذہب نے اظہار خیال اور جائز حقوق کے پرامن مطالبے کو حرام قرار نہیں دیا ہے۔انھوں نے کہا: پرامن مظاہرے قوموں کی مجبوری ہیں اور جب علاقے کے سیاسی نظامات عوام کے جائز حقوق کے سامنے بند باندھتے ہیں تو انہيں پرامن مظاہروں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110