12 ستمبر 2026 - 21:15
آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی سعودی پائپ لائن بند

آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی سعودی پائپ لائن بند،جس سے عالمی توانائی کی فراہمی پر مزید دباؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

سعودی عرب نے ڈرون حملے میں اپنی اسٹریٹجک مشرق تا مغرب آئل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی ہیں، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی پر مزید دباؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ پائپ لائن پر حملہ عراق سے کیا گیا، جس کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر اس کی ترسیل معطل کردی گئی۔ سعودی وزارت توانائی نے بھی پائپ لائن کی بندش کی تصدیق کی ہے۔

تقریباً 1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کو نظرانداز کرتے ہوئے تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیے جانے کا اندازہ لگایا گیا، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں مدینہ منورہ کے جنوب میں پائپ لائن کے قریب سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق حملے میں بعض افراد زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا، تاہم نقصان کی مکمل تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث آئل ٹینکرز کی آمدورفت شدید متاثر ہے، جبکہ یمنی فورسز نے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستوں پر بھی اپنا کنٹرول بڑھا لیا ہے۔

رائٹرز کے حوالے سے یمنی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی حوثی فورسز نے جمعہ کے روز بحیرہ احمر کے داخلی راستے اور باب المندب کے قریب واقع اسٹریٹجک جزیرے پریم (میون) پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا۔

آبنائے ہرمز میں رکاوٹ اور سعودی عرب کی متبادل آئل پائپ لائن کی بندش نے خطے میں توانائی کی سپلائی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha