ابنا: فلسطین کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے کہ جو اس وقت سوڈان کے دورے پر ہیں ، کل اس ملک کے صدر عمر بشیر سے ملاقات میں بیت المقدس اور مسجد الاقصی کے خلاف صہیونی ریاست کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوۓ مسلمانوں کو قدس کی نصرت کی دعوت دی ۔
اسماعیل ہنیہ نے بیت المقدس کی سیاسی اور مالی حمایت کی تاکید کے ساتھ ساتھ کہا ہے کہ قدس اس وقت حقیقی خطرے میں ہے اور صہیونی قابض مسجد الاقصی کا تشخص بدلنے ، پارلیمنٹ کے اراکین کو قدس سے دور کرنے اور ہزاروں فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنے کے درپے ہیں۔ خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے بھی رام اللہ میں فلسطینی گورنروں کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ قدس شریف کو اس وقت صہیونی ریاست کی سازشوں کا سامنا ہے۔
یہ حکومت اس شہر کا عربی اور اسلامی تشخص تبدیل کرنے کے لۓ اپنے تمام وسائل بروۓ کار لارہی ہے۔ اس لۓ اسلامی اور عرب ممالک ان اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لۓ میدان عمل اتر پڑیں ۔ محمود عباس نے سنہ انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کی تجویز حال ہی میں اقوام متحدہ میں پیش کی ہے۔
الخلیج اخبار نے ملت فلسطین کے بارے میں خاموشی پر مبنی اقوام متحدہ کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوۓ لکھا ہے کہ اس عالمی ادارے نے صہیونیوں کے مظالم کے سلسلے میں ہمیشہ خاموشی اختیار کی ہے لیکن فلسطینی مقبوضہ سرزمینوں کی آزادی تک اپنی جد و جہد جاری رکھیں گے۔
صہیونی ریاست نے سنہ انیس سو اڑتالیس میں اپنے قیام کے بعد سے ہی اس سرزمین خاص کر قدس شہر کے اسلامی تشخص کو مٹانے کی کوشش شروع کردی تھی۔ صہیونی ریاست بیت القدس کو یہودی رنگ دینے کے لۓ اس شہر میں صیہونیوں کے لۓ ہزاروں رہائشی مکانات تعمیر کرچکی ہے ۔ صہیونی ریاست مسجد الاقصی کے صحن کے نیچے اور اس کے اطراف میں کھدائي کا سلسلہ جاری رکھے ہوۓ ہے جبکہ فلسطینی علاقوں میں سیکڑوں مساجد کو منہدم کرچکی ہے۔
صہیونی ریاست کے ان اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لۓ ضروری ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان فلسطینیوں کی حمایت کے لۓ اٹھ کھڑے ہوں۔ دنیا بھر کے مسلمان فلسطینیوں کی حمایت کے ذریعے صہیونی ریاست کے قبضے سے بیت المقدس کی آزادی کا راستہ ہموار کرسکتے ہیں۔ ......
/169