اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کو ملنے والی اطلاعات نیز ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق مولوی عبدالصمد سومرو ولد صوبت خان جامعۂ بنوریہ کا استاد اور لال مسجد و مدرسہ گلبہار کالونی کا مہتمم و خطیب اور شکارپور کا رہائشی تھا۔وہ کل گلبہار کالونی میں مسجد سے نکل کر گاڑی میں بیٹھنے کے وقت نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگیا۔ عبدالصمد کالعدم سپاہ صحابہ ـ جو اہل سنت و الجماعت کے نام سے سرگرم عمل ہے ـ کے صدر اورنگزیب فاروقی کا نائب بھی رہا جبکہ اس سال محرم کی آمد سے قبل اورنگزیب فاروقی نے شیعہ عزاداروں کے قتل عام کا عندیہ دیا اور محرم کی ابتداء سے اب تک عزاداری کی مجالس اور جلوسوں پر متعدد حملے ہوئے ہیں اور ساتھ ساتھ اس ٹولے کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کہا جاتا ہے کہ سومرو مفتی محمد نعیم کا پرسنل سیکریٹری تھا، بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ کا چیئرمین بھی رہا، آل سعود کی خدمت میں مصروف عمل تھا اور اسی حوالے سے بننے والے گروہ "تحفظ حرمین" میں بھی اہم کردار ادا کررہا تھا اور حال ہی میں اس نے 6 مئی کو ایم اے جناح روڈ پر نکالی گئی تحفظ حرمین ریلی نکلوائی تھی۔ وہ لال مسجد اور مدرسہ گلبہار فردوس کالونی کا مہتمم تھا۔ کالعدم گروپوں کے ذرائع کہتے ہیں کہ اس کو نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔ یاد رہے کہ جامعہ بنوریہ ان تمام گروہوں کا مأوی و ملجأ ہے جو بظاہر کالعدم ہیں لیکن اعلانیہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔رات گئے اس کی نماز جنازہ ادا کر کے اس کی میت کو آبائی گاﺅں روانہ کردیا گیا ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتم مفتی محمد نعیم، جمعیت علماءاسلام (ف)، اہل سنت و الجماعت (سپاہ صحابہ) کراچی کے صدر اورنگزیب فاروقی، جماعة الدعوة کر اچی، تحریک حرمت رسول (ص)، جامعہ الدراسات الاسلامیہ، جامعہ مخزن العلوم کراچی ودیگر نے عبد الصمد سومرو کی ہلاکت کی مذمت کر تے ہوئے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے اس قتل کی فوری تحقیقات اور ملوث افراد کو گرفتار کر کے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس اور ذرائع ابلاغ نے، شیعہ نسل کشی کو نامعلوم افراد کی فائرنگ قرار دے کر عام طور پر دہشت گرد جماعتوں کو بري الذمہ قرار دینے کی کوششوں کے باوجود، اس واقعے کو فرقہ وارانہ تشدد کا شاخسانہ قرار دینے کی کوشش کی ہے جبکہ علماء نے اس کو ملک میں فرقہ واریت پھیلانے اور ملک دشمن قوتوں کی سازش قرار دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110