26 دسمبر 2011 - 20:30

اسلام آباد… چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ میمو گیٹ اسکینڈل کے حوالے سے آج پانچویں سماعت کرے گا ۔

ابنا: مسلم لیگ ن کے رہ نما میاں محمد نواز شریف سمیت دیگر درخواست گزاراور ان کے وکلاء نے میمو گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے حوالے سے آئینی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں جب کہ وفاق کی طرف سے چیف آف آرمی اسٹاف ، ڈی جی آئی ایس آئی کے بیانات حلفی پر بھی وزارت داخلہ کی طرف سے وفاق نے جواب داخل کر دیا ہے۔ آج اٹارنی جنرل پاکستان مولوی انوار الحق وفاق کے موقف کے تحت درخواستوں کیآئین کے آرٹیکل 184کے تحت ناقابل سماعت ہونے پر دلائل دیں گے جب کہ حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر بھی سپریم کورٹ کے اختیار سماعت پر اسی موقف پر دلائل دیں گی۔ ۔ سپریم کورٹ نے 19دسمبر کو سماعت شروع ہونے کے بعد کہا تھا کہ عدالت پہلے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نا ہونے کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔

پیر کو رات دیر گئے صدر یا وزیر اعظم کی طرف سے کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا ہے۔23دسمبر کی سماعت میں سپریم کورٹ نے بابر اعوان اور وفاقی وزرا ء کی عدالت کے خلاف نازیبا زبان سے متعلق وزیر اعظم کے اس بیان کو قبول نہیں کیا تھا کہ یہ پارٹی کا موقف ہے اور اس حوالے سے وزیر اعظم کو دوٹوک جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم پیر کی رات گئے تک بھی اس حوالے سے اٹارنی جنرل نے کوئی جواب داخل نہیں کیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل اور عاصمہ جہانگیر کے دلائل مکمل ہونے کی صورت میں عدالت اپنے اختیار سماعت اور درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ سنا سکتی ہے .......

/169