22 دسمبر 2011 - 20:30

علامہ سید ساجد علی نقوی نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ’’یوم حسین (ع) ‘‘ کے پروگرام میں شرپسندوں کی جانب سے پتھراؤ سے متعدد طلبہ کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی ہے.

ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ’’یوم حسین (ع) ‘‘ کے پروگرام میں شرپسندوں کی جانب سے پتھراؤ سے متعدد طلبہ کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ بنیادی آئینی و شہری حقوق کی خاطر کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم بہتر نظم و نسق کی خاطر یونیورسٹی انتظامیہ سے اجازت کے باوجود کسی کے اشارے پر شرپسند عناصر کی جانب سے فتنہ انگیزی کا کھیل کھیلا گیا جس سے نہ صرف یونیورسٹی کا تقدس پامال ہوا بلکہ طلبہ کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو بھی روکنے کی کوشش کی گئی جو انتہائی قابل مذمت ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھی شہرت کے حامل ججوں کا تقرر کرکے اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے اور مجرم کیفر کردار تک پہنچیں تاکہ مستقبل میں کسی کو ایسا اقدا م کرنے کی جرات نہ ہوسکے۔

اپنے مذمتی بیان میں علامہ ساجد نقوی نے زخمی طلبہ کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے جامعہ پنجاب کے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ دلوں سے کدورتیں اور نفرتیں نکال کر یونیورسٹی کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے باہم متحد ہوں اور شرپسند عناصر کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں.

 علامہ سید ساجد علی نقوی کی صدارت میں مرکزی وصوبائی ذمہ داروں کے اجلاس میں حسینی مشن امام بارگاہ ڈرگ روڈ کراچی میں شرپسندوں کے حملے اور پولیس اور انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے کی بھی مذمت کی اور قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ پولیس کو خلاف قانون اقدام اور اپنی حدود سے تجاوز کا حق نہیں پہنچتا لہذا بلاتاخیر متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ .......

/169