ابنا: اس جاسوس کی گرفتاری جس نےامریکہ کےجاسوسی اورخفیہ ادارے پرایک اورضرب لگائی ہے ایسےعالم میں ہوئی ہےکہ جب اسلامی جمہوریہ ایران کی فضا میں امریکہ کےڈرون حملے کی جارحیت اور ایران کی فضائی ٹیکنالوجی کےذریعے امریکی ڈرون کواپنےکنٹرول میں لینے کی خبریں ذرائع ابلاغ میں گونج رہی ہیں ۔امریکہ کےڈرون طیارےکو ایران کےہاتھوں نہایت معمولی نقصان سےاپنےکنٹرول میں لےلینابلاشبہ امریکہ کی انٹیلیجنس اورسائبرجنگ پرایک کاری ضرب شمارہورہاہے۔امریکہ اس وقت ایران کےساتھ ایسی مقابلہ آرائی کے مرحلےمیں داخل ہوچکاہے جس میں بظاہر براہ راست فوجی مقابلہ آرائی کی علامتیں تونہيں ہيں لیکن یہ امریکہ کی جانب سےایران کےخلاف ماحول تیارکئےجانےکے تناظرمیں فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہے۔
امریکہ ایران کےخلاف سافٹ وار کےمیدان میں داخل ہوکر درحقیقت ایسےاسٹریٹیجک اہداف پرعمل کررہاہے جوسیاسی ماہرین کی نگاہ میں براہ راست مقابلہ آرائی ، اقتصادی دباؤ اور فوجی دھمکیوں سےحاصل ہونےوالا نہيں ہے۔
ایران کےسلسلےمیں امریکہ کے لئےایک اورمسئلہ جوچیلنج بناہواہے وہ تہران کےخلاف عالمی اتفاق رائے پیداکرناہے اور اس سلسلےمیں بھی امریکہ دولحاظ سے تعطل کاشکارہے ایک یہ کہ امریکہ اپنی مشرق وسطی پالیسی میں ناکام ہوچکاہے اور اب نو سال کےبعد عراق سےپوری طرح پسپائی کے بعد سرگرداں ہے۔
امریکہ ، افغانستان کےسلسلےمیں پاکستان کےساتھ اپنےتعلقات میں بحران پیدا ہونےکےبعدایسی پوزیشن میں نہیں ہےکہ علاقےمیں نئی فوجی مہم شروع کرے۔لیکن دوسرا اہم نکتہ یہ ہےکہ امریکہ کواسلامی بیداری سےبھی تشویش ہےکہ جوٹیونس ، مصراورلیبیامیں ہونےوالی تبدیلی کاسرچشمہ ہے اور اس کامحور عوامی انقلابی تحریکيں ہيں اور اسی مسئلےنے انقلابی تحریکوں کویرغمال بنانےکےلئے ہرطرح کےاقدام کوناممکن بنادیاہے۔
اس عظیم تبدیلی نےسب سےپہلے اسرائیل کوتنہاکردیاہے اورعلاقے کی وابستہ اورکٹھ پتلی حکومتوں کاشیرازہ بکھرنےاورامریکی اڈوں کےہاتھ سےنکلنےکےعمل میں تیزی پیداکردی ہے۔
بنابرایں امریکہ کےپاس سافٹ وار کےمرحلےمیں داخل ہونے کےسوا کوئي چارہ نہيں ہے لیکن اس مقابلہ آرائی کےاپنےمسائل ہيں اوریقیناامریکہ کواس کےلئے بھاری قیمت چکانی ہوگي ۔
مسلمہ امریہ ہےکہ اس وقت امریکہ کےدشمنانہ اقدامات وسیع پہلوؤں کےحامل ہيں اور امریکی حکام ،ایران میں انٹرنٹ سفارتخانہ کھولنے سمیت جاسوسی کانیٹ ورک پھیلانے اورڈرون طیارہ بھیجنےتک سےبعض نہيں آرہےہیں اورنئی روش سے سازشوں کی شکل میں نفسیاتی جنگ کےذریعےاسلامی جمہوری نظام کاتختہ الٹنےکی کوشش کررہےہيں ، لیکن ان اقدامات کےمقابلےمیں بھی ایران کی برتری نےثابت کردیاہےکہ امریکہ اس راستےپرچل کربھی کچہ حاصل نہيں کرپائےگا۔........ /169