17 دسمبر 2011 - 20:30

لیبیا کے خلاف امریکی فوجیوں کے حملوں کے دوران اس ملک کو شدید نقصانات پہنچنےکے باوجود امریکہ کے وزیر جنگ لئون پانیٹا لیبیا کے دورے پر ہیں اور انہوں نے لیبیا کو اپنا اسٹریٹیجک ساتھی قرار دیا ہے۔

ابنا: لئون پانیٹا نے طرابلس میں لیبیا کے وزیر اعظم عبدالرحیم الکیب کے ساتھ ملاقات میں مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ لیبیا سیکورٹی کے سلسلے میں امریکہ کے ایک اہم شریک میں تبدیل ہوجاۓ گا۔ امریکی وزیر جنگ نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ لیبیا کے وزیر دفاع اسامہ الجویلی کے ساتھ ملاقات کے دوران اسلحہ کی خرید و فروخت کے بارے میں مذاکرات نہیں ہوۓ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود واضح ہے کہ قذافی حکومت کے جدید ترین ہتھیاروں کا معاملہ امریکی وزیر جنگ اور لیبیا کے حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یقینا زیر بحث آیا۔

امریکی وزیر جنگ نے ایسے وقت لیبیا کا دورہ کیا ہے کہ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کے دن لیبیا کے سنٹرل بینک پر عائد پابندیاں ختم کردیں اور یوں اس نے دوسرے میں ممالک میں منجمد کۓ جانے والے لیبیا کی حکومت کے دسیوں ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا راستہ ہموار کردیا۔ امریکہ نے بھی اعلان کیا ہےکہ اس نے لیبیا کی حکومت کے تیس ارب ڈالر سے زیادہ کی مالیت کے اثاثے بحال کردیۓ ہیں۔

لیبیا کو حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائيگی ، ملک کی تعمیر نو اور اپنے استحکام کے لۓ دوسرے ممالک میں موجود اپنے اثاثوں کی شدید ضرورت ہے۔ کسی بھی امریکی وزیر جنگ کا یہ پہلا دورۂ لیبیا ہے ۔ امریکہ کے صدور تھامس جفرسن سے لے کر باراک اوباما تک سب کی حکومتیں یا تو لیبیا کے ساتھ جنگ کی پلاننگ کرتی رہیں یا اس ملک کے ساتھ حالت جنگ میں رہیں۔

لیکن اب قذاقی حکومت کے خاتمے کے بعد واشنگٹن کے حکام تیل پیدا کرنے والے دنیا کے اس آٹھویں بڑے ملک کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران اور لیبیا میں عوامی تحریک شروع ہونے سے پہلےتک یورپ کے مفاد پرست ممالک قذافی حکومت کے ساتھ تیل کے معاہدے کرنےکے سلسلے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ لیبیا کے عوام نے قذافی کے خلاف تحریک شروع کردی ہے تو انہوں نے فورا لیبیا پر حملہ کردیا ۔

امریکہ ، فرانس اور برطانیہ نے تو جنگ کے زمانے میں بھی بعض انقلابی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کۓ اور ان کو زیادہ مدد فراہم کرنے کے لۓ زیادہ حصے کا مطالبہ کیا۔ بہرحال مجموعی طور پر ایسا نظر آتا ہے کہ امریکہ توانائی کے سلسلے میں تشویش میں مبتلاء ہے ۔ اسی لۓ لیبیا کی نئي حکومت کو زیادہ مراعات دے کر اس ملک کے تیل سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لۓ کوشاں ہے۔ البتہ امریکہ کے ماضی کو دیکھتے ہوۓ اس بات کا امکان بھی پایا جاتا ہے کہ وہ قیام امن کے بہانے لیبیا میں ایک دائمی فوجی اڈا قائم کرنےکی بھی کوشش کرے گا۔ ....../169