13 دسمبر 2011 - 20:30

سعودی کے نئے ولیعہد نائف بن عبدالعزیز نے فوجی کمانڈروں کے نام اپنے ایک خط میں میں ان کو فرمانِ بے رحمی جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر بالکل رحم نہ کریں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کے اٹھتر سالہ ولیعہد نے یہ خط مارچ 2011 میں لکھا تھا جس وقت وہ سعودی عرب کے وزیرداخلہ تھے اور ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز ابھی زندہ تھے۔ انھوں نے یہ خط خاص طور پر ان کمانڈروں کے نام تحریر کیا تھا جو مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کی سیکورٹی کی نگرانی کرتے ہیں۔ نائف نے اس خط میں فوجی کمانڈروں کو احتجاجیوں کی سرکوبی کا فری ہینڈ دیا گیا ہے اور ان لوگوں کو نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے جو حکومت کی جانب سے شہریوں کے حقوق پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں یا احتجاج کرسکتے ہیں۔اس خط میں نائف نے ایسے لوگوں پر گولی چلانے کی بھی اجازت عطا فرمائی ہے۔آل سعود کی قدامت پسند استبدادی بادشاہت دنیا میں بھی مخالفین کو کسی صورت میں برداشت نہ کرنے کے حوالے سے بدنام ہے اور اس بادشاہت نے 2011 کے ابتدائی مہینوں میں عرب دنیا میں شروع ہونے والی انقلابات کے ساتھ ہی شروع ہونے والی آل سعود مخالف احتجاجی تحریک کو کـچلنے کی مسلسل کوشش کی ہے جو نہ صرف ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی ہے بلکہ توقع کی جاتی ہے کہ اس حکومت کو آنے والے دنوں میں زیادہ شدید اور وسیع احتجاجی تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ..............

/169

آل سعود کے خلاف سنی راہنماؤں کی احتجاجی کال