12 دسمبر 2011 - 20:30

سعودی قلم کار و محقق نے ساٹھ قانوندانوں کے حالیہ بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر آل سعود کی حکومت اس بیان پر دستخط کرنے والے مفکرین کو گرفتار کرے تو سعودی حکمرانی کا خاتمہ یقینی ہوجائے گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فؤاد ابراہیم نے کہا کہ ساٹھ قانوندانوں کا حالیہ بیان ـ جس میں انھوں نے اصلاح پسندوں کے خلاف ظالمانہ عدالتی احکامات کی مذمت کی اور منطقۃالشرقیہ میں فرقہ روانہ امتیازات اور مذہبی مظالم کے سد باب کا مطالبہ کیا تھا ـ عربی انقلابات کے بعد سعودی عرب میں نئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ انھوں نے کہا: ہم آل سعود کے خفیہ اداروں سے وابستہ روزناموں کی جانب سے ان قانوندانوں کے خلاف زہر افشانی کے خلاف، ان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔انھوں نےکہا کہ آل سعود کی طرف سے عوام اور سرگرم شہریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور 30 اہم افراد کو قید کی سزائیں بھی سنائی جاچکی ہیں۔ انھوں نے کہا: ساٹھ قانوندانوں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آل سعود کی حکومت ملک میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ضرورت کا انکار کررہی ہے اور سعودی وزارت داخلہ نے اس بیان کو بیرونی مداخلت کا پیش خیمہ قرار دیا اور ان ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود کی حکومت عظیم عوامی تحریک اور سیاسی حقوق کے حصول کے لئے قومی لہر کی اٹھان سے غافل اور اس کے ادراک سے عاجز ہے۔فؤاد ابراہیم نے منطقۃالشرقیہ کے مظاہرین پر آل سعود کے الزامات اور ان کی بیرونی وابستگی پر آل سعود کے اصرار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود حکومت کے یہ الزامات اس حکومت کی شکست کی علامت ہے اور حکومت کی یہ تشہیری مہم بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ الشرقیہ کے مظاہرین ایرانی ہیں۔...............

/169-110

سعودی عرب: انقلابی تحریک بدستور جاری ہے/ آل سعود کی حکومت ختم ہونی چاہئے