اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عوام کے ساتھ آل سعود کی بدسلوکی پر سعودی عرب کے 60 قانوندانوں کے مذمتی بیان نے آل سعود کو غضبناک کردیا ہے۔ سعودی روزناموں نے اس بیان پر دستخط کرنے والے قانوندانوں پر شدید حملے کئے ہیں اور ملک میں نئی گرفتاریوں کی لہر اٹھ چکی ہے۔سعودی عرب کی مجموعی صورت حالــ کئی سعودی شہروں میں مظاہرےجمعہ کے روز منطقۃالشرقیہ کے کئی شہروں میں آل سعود کے جرائم کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور القطیف کے مظاہرین نے انقلابی نوجوانوں کے قتل میں ملوث سرکاری اہلکاروں پر مقدمہ چلانے اور ملک میں وسیع البنیاد اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ العوامیہ میں شریک عوام نے خون شہداء اور بے گناہ اسیروں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ العوامیہ میں 5000 افراد مظاہرے میں شریک ہوئے اور انھوں نے شہداء کی تصاویر کے علاوہ اسیر راہنماؤں شیخ توفیق العامر اور علی الدبیسی کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ الشرقیہ کے حکمران محمد بن فہد کی سرنگونی، مظاہرین پر گولی چلانے والوں کے قصاصا کا کا مطالبہ کررہے تھے اور ان کے نعروں میں "صرف ہم صرف خدا کے سامنے رکوع کرتے ہیں" اور "ملت کی عزت کو پامال نہیں کیا جاسکتا"، جیسے نعرے خاص طور پر قابل ذکر تھے۔ جمعیت ترقی و تغییر نے عوام کو العوامیہ کے مظاہرے میں شرکت دعوت دی تھی اور اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کی قوم بھی ملک میں تبدیلیوں کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور یمن، مصر، تیونس اور بحرین کی حریت پسند قوموں کے ساتھ قدم بقدم آگے بڑھ سکتی ہے؛ چنانچہ عوام مظاہرے میں شریک ہوکر اس حقیقت کو ثابت کردیں۔ــ آل سعود کے ہاتھوں عوام کی نئی گرفتاریاں آل سعود نے عوام کی نئی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور سعودی حکمرانوں نے سیاسی قائدین اور سرگرم شخصیات کی گرفتاری کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنالیا ہے اور سعودی عرب میں سیاسی تبدیلیوں اور اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے راہنماؤں کو پابندیوں اور گرفتاریوں کا سامنا ہے۔قبل ازيں ساٹھ اور بہروايتے سو سے زائد قانوندانوں اور سیاستدانوں سے عوام کے خلاف آل سعود کے جابرانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کے خاتمے اور حریت پسندوں کو سنائی گئی سزاؤں کی منسوخی نیز سنی شیعہ اسیروں بالخصوص "فراموش شدہ" اسیروں کے نام سے مشہور قیدیوں کی فوری رہائی کا کا مطالبہ کیا تھا۔آل سعود نے 17 سال قبل بعض شہریوں کو الخبر کے دھماکوں میں ملوث قرار دے کر گرفتار کیا تھا جن سے آج تک کسی کا بھی رابطہ نہیں ہوسکا ہے اور ان پر مقدمہ بھی نہیں چلایا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور ان قیدیوں کو "فراموش شدہ" قیدیوں کا لقب دیا گیا ہے۔ ــ اصلاحات کے حامیوں پر آل سعود سے وابستہ روزناموں کے حملے؛ سعودی عرب میں ایرانی لابی!آل سعود سے وابستہ روزناموں نے قیدیوں کی رہائی، ملک میں اصلاحات اور سرکاری مظالم کی مذمت نیز قطیف میں شیعہ مظاہرین کی حمایت کے حوالے سے ساٹھ قانوندانوں کے بیان کو ملک دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے قانوندانوں کے اس گروپ کو "ایرانی ـ سعودی لابی" کا نام دیا ہے۔الشرق الاوسط کے چیف ایڈیٹر طارق الحمید نے "العوامیہ سے لندن تک" کے زیر عنوان مضمون میں لکھا: اس بیان پر دستخط کرنے والے "ایرانی سعودی لابی" کے اراکین ہیں اور یہ لوگ ایران کی تشہیری مشین کا حصہ ہیں!۔روزنامہ "الاقتصادیہ" کے چیف ایڈیٹر سلمان الدوسری نے بیان پر دستخط کرنے والوں کو "کودتا" کرنے والے عناصر کا نام دیتے ہوئے قانوندانوں پر الزام لگایا کہ وہ ان بیانات کے ذریعے سعودی عرب میں بیرونی مداخلت کے لئے ماحول بنا رہے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے بیان میں القطیف میں چار مقتولین کے قتل کی تحقیقات کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ بھی کیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان قانوندانوں نے بیرونی فریقوں کو بھی ملک میں مداخلت کی دعوت دی ہے۔ روزنامہ الجزیرہ کے چیف ایڈیٹر خالد المالک نے بھی قانوندانوں کے بیان کو سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام میں خلل ڈالنے کی کوشش قراردینے ہوئے لکھا کہ یہ بیان پیشگی متعینہ مقاصد کے تحت لکھا گیا ہے۔ ــ آل سعود کے لئے مفکرین کی گرفتاری مہنگی پڑے گیسعودی قلم کار و محقق نے ساٹھ قانوندانوں کے حالیہ بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر آل سعود کی حکومت اس بیان پر دستخط کرنے والے مفکرین کو گرفتار کرے تو سعودی حکمرانی کا خاتمہ یقینی ہوجائے گا۔فؤاد ابراہیم نے کہا کہ ساٹھ قانوندانوں کا حالیہ بیان ـ جس میں انھوں نے اصلاح پسندوں کے خلاف ظالمانہ عدالتی احکامات کی مذمت کی اور منطقۃالشرقیہ میں فرقہ روانہ امتیازات اور مذہبی مظالم کے سد باب کا مطالبہ کیا تھا ـ عربی انقلابات کے بعد سعودی عرب میں نئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ انھوں نے کہا: ہم آل سعود کے خفیہ اداروں سے وابستہ روزناموں کی جانب سے ان قانوندانوں کے خلاف زہر افشانی کے خلاف، ان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔انھوں نےکہا کہ آل سعود کی طرف سے عوام اور سرگرم شہریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور 30 اہم افراد کو قید کی سزائیں بھی سنائی جاچکی ہیں۔ انھوں نے کہا: ساٹھ قانوندانوں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آل سعود کی حکومت ملک میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ضرورت کا انکار کررہی ہے اور سعودی وزارت داخلہ نے اس بیان کو بیرونی مداخلت کا پیش خیمہ قرار دیا اور ان ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود کی حکومت عظیم عوامی تحریک اور سیاسی حقوق کے حصول کے لئے قومی لہر کی اٹھان سے غافل اور اس کے ادراک سے عاجز ہے۔فؤاد ابراہیم نے منطقۃالشرقیہ کے مظاہرین پر آل سعود کے الزامات اور ان کی بیرونی وابستگی پر آل سعود کے اصرار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود حکومت کے یہ الزامات اس حکومت کی شکست کی علامت ہے اور حکومت کی یہ تشہیری مہم بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ الشرقیہ کے مظاہرین ایرانی ہیں۔ــ آل سعود کی حکومت ختم ہونی چاہئے نامور خطیب اور العوامیہ کے امام جمعہ شیخ نَمِر باقر النَمِر نے آل سعود کی حکمرانی کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے۔انھوں نے العوامیہ کی مسجد امام حسین علیہ السلام میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے منطقۃالشرقیہ میں تناؤ کی ذمہ داری آل سعود کی حکومت پر عائد کی اور کہا: سعودی سرکاری اہلکار اور ان کے سیکورٹی افسران الشرقیہ میں بدامنی پھیلارہے ہیں لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ عوام ان کے مقابلے میں مزاحمت کریں گے اور آل سعود کی دھمکیاں عوامی کو ان کے مطالبات سے باز نہیں رکھ سکیں گی۔ انھوں نے آل سعود کی بادشاہت کو قرآن مجید کے منافی قرار دیا اور کہا: آل سعود کی حکومت جو جمہوریت اور اسلامی اقدار سے مغایرت رکھتی ہے، خلیج فارس کے علاقے سے اکھڑ جانی چاہئےکیونکہ سعودی عوام بادشاہت کے خلاف ہیں کیونکہ اس حکومت کے پاس عوام کے قتل عام کے سوا اور کئی بھی منصوبہ نہیں ہے لیکن اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ شہادت مستقبل کی عزت و کرامت کو جنم دیتی ہے۔انھوں نے کہا: آل سعود کو سعودی عوام کا قتل عام بند کردینا چاہئے۔انھوں نے کہا: سعودی عوام سیاسی اور فکری آزادی اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے مطالبے سے پسپا نہیں ہونگے اور حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوامی مطالبات پر فوری عملدرآمد کرے اور عوام کے قتل عام سے اجتناب کرے۔شیخ باقر النمر نے بحرینی عوام پر آل خلیفہ کے مظالم کی بھی مذمت کی اور کہا: آل خلیفہ حکمران اجنبی قوتوں کے فرامین پر عمل کررہے ہیں اور اسی حال میں عوام پر بیرونی قوتوں سے وابستگی کا الزام لگا رہے ہیں اور یہی صورت حال سعودی عرب میں دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سعودی عرب میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے ہر لحاظ سے قومی اور اندرونی ہیں لیکن حکومت ان مظاہروں کو بیرونی قوتوں سے وابستہ قرار دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا: خلیفی حکمران بحرینی عوام کو کچلنے کے لئے امریکی اور برطانوی فوجیوں سے مدد لے رہے ہیں اور سعودی عرب میں ہم سے کہا جاتا ہے کہ خاموش رہیں تا ہم، ہم مزاحمت جاری رکھیں گے اور پر امن مظاہروں کے ذریعے اپنے مطالبات پر اصرار کریں گے۔ انھوں نے آل سعود کی نام نہاد "انسداد بغاوت" فورسز کو سعودی عرب میں بغاوت کی فضا قائم کرنے کا الزام لگایا اور کہا: آل سعود کی فورسز عوام کے قتل عام اور تناؤ پیدا کرنے والے اقدامات کا سہارا لے کر ملک میں انارکی پھیلارہی ہیں۔ انھوں نے بحرین سے سعودی گماشتوں کے انخلاء کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اور ہمارے نوجوان بحرینی عوام ، سعودی عرب میں شیعہ اسیروں کی حمایت اور آزادی اور کرامت و وقار کے حصول کی کی راہ کی راہ میں شہادت کے لئے تیار ہیں۔
12 دسمبر 2011 - 20:30
News ID: 283683
کئی سعودی شہروں میں مظاہرے / آل سعود کے ہاتھوں عوام کی نئی گرفتاریاں / اصلاحات کے حامیوں پر آل سعود سے وابستہ روزناموں کے حملے ؛ سعودی عرب میں ایرانی لابی!/ آل سعود کے لئے مفکرین کی گرفتاری مہنگی پڑے گی / آل سعود کی حکومت ختم ہونی چاہئے / مخالفین کی صدا سن لی جانی چاہئے / سعودی عرب میں تبدیلیاں حتمی ہیں / انسانی حقوق کے اداروں کی سرگرمیوں کو قانونی حیثیت ملنی چاہئے / آل سعود اور جرمنی سے ٹینکوں کی خریداری / 2012 میں آل سعود امریکہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج۔