9 دسمبر 2011 - 20:30

يمن کے مختلف صوبوں ميں دسيوں لاکھ کي تعداد ميں عوام نے مظاہرے کئے اور نئے وزيراعظم محمد سالم باسندوہ کي مخالفت کا اعلان کياـ

ابنا: دار الحکومت صنعاء سميت ملک کے مختلف علاقوں ميں وسيع پيمانے پر مظاہرے ہوئے جن ميں عوام نے حکومت اور بعض اپوزيشن جماعتوں کے معاہدے کے تحت نئي حکومت کي تشکيل کي مخالفت کي ـ مظاہرين نے نئي حکومت ميں شامل متعدد افراد کے نام ليکر اعلان کيا ہے کہ يہ لوگ عوام کے خلاف تشدد اور مظاہرين کے قتل عام کے ذمہ دار ہيں ـ جنوبي شہر تعز ميں بھي بڑے پيمانے پر مظاہرے ہوئے اور محمد سالم باسندوہ کي قيادت ميں تشکيل دي جانے والي نئي کابينہ کي مخالفت کا اعلان کيا گياـ

مظاہرين نے کہا ہے کہ انقلاب کے خلاف ہر طرح کي محاذ آرائي کا ڈٹ کر مقابلہ کيا جائے گاـ سعودي عرب کے دار الحکومت رياض ميں ہونے والے معاہدے کے تحت يمن کا اقتدار ڈکٹيٹر عبد اللہ صالح سے اس کے نائب عبد ربہ ہادي کو منتقل کيا گيا ليکن اس سے عوامي مظاہروں ميں کوئي کمي نہيں آئي ہے بلکہ ڈکٹيٹر صالح اور اس کے رفقائے کار کے خلاف قانوني کارروائي کے عوامي مطالبے ميں اور بھي شدت پيدا ہو گئي ہےــ.......

/169