اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے افغانستان، پاکستان اور عراق میں تاسوعا اور عاشورا کے دوران کثیر تعداد میں شیعیان اہل بیت (ع) کی شہادت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، مذمتی بیان جاری کیا ہے اور مختلف ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے علماء اور مفتیوں سے اپیل کی ہے کہ ان جرائم کے سامنے خاموشی توڑ دیں۔نیز عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے ذمہ دار اور متعہد شیعہ اور سنی (Committed) مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ بیانات، تقاریر اور اجتماعات کے ذریعے ان مظلوم شہیدوں کی صدا دنیا والوں تک پہنچادیں اور قانونی راستوں سے اہل بیت نبی (ص) کے مظلوم پیروکاروں کا دفاع و تحفظ کریں۔ بیان کا متن مندرجہ ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم"يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِم واللَّهُ مُتِمُّ نُورِه ولَو كَرِهَ الْكَافِرُونَ" (صف ـ 8)
یہ (منکرینِ حق) اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا دینا چاہتے ہمیں جبکہ اللہ اپنے نور کو پورا فرمانے والا ہے خواہ کافر کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کریں۔
کل یوم عاشورا و کل ارض کربلاء
ایسے حال میں جب عالم تشیع ایک بار پھر اسلام کی راہ میں سبط نبی (ص) کی لازوال قربانی کو زندہ کررہے تھے اور ان کی مجالس حضرت ابا عبداللہ الحسین (ع) کے نام و یاد کی خوشبو سے معطر تھیں، انسانیت کے دشمنوں کے ناپاک ہاتھوں نے افغانستان میں کابل، مزار شریف اور قندہار کے شیعیان اہل بیت (ع) میں سے درجنوں افراد نیز پاکستان اور عراق میں متعدد عزاداران حسینی کو شہید کردیا۔ان دہشت گردانہ کاروائیوں کے شہیدوں اور زخمیوں کا کوئی جرم م گناہ نہ تھا سوائے اس کے، کہ وہ اہل بیت (ع) کی عزا ماتم کے ایام میں کربلا کے خونین مکتب کو عشق و عقیدت اور محبت و مودت کا نذرانہ پیش کررہے تھے اور خالص محمدی اسلام، ولایت علی اور اولاد علی ـ علیہم السلام ـ پر ایمان کا اظہار کررہے تھے۔ان المیوں کی گہرائی کو مد نظر رکھتے ہوئے عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی، سینکڑوں شیعہ علماء و مفکرین پر مشتمل بین الاقوامی ادارے کی حیثیت سے، دنیا والوں کی توجہ درج ذیل نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے: 1۔ اس حساس مرحلے میں جبکہ تیونس، مصر، لیبیا، بحرین اور یمن میں بیدار ہونے والے مسلمان ایران کے اسلامی انقلاب اور عراق و لبنان میں اسلامی مزاحمت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاریخ میں نئے ابواب کھول رہے ہیں، "قرآن و عترت کی پیروی" کو ہماری کامیابی اور فتحمندی کا راز سمجھنے والے دشمنان اسلام پیروان اہل بیت (ع) کو نشانہ بنوا کر انہیں اپنے روشن راستے پر گامزن رہنے سے باز رکھنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ 2۔ دشمنان اہل بیت ـ علیہم السلام ـ کو جان لینا چاہئے کہ اگر امیرالمؤمنین اور امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کو شہید کرکے ان کے خون میں ہاتھ رنگنے والے اگر اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں تو آج بھی ان پیشواؤں کے پیروکاروں کو خاک و خون میں تڑپانے والے بھی اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکیں گے؛ محال ہے کہ یہ نابکار یزیدی اس قسم کے اعمال سے نور خدا کو بجھا سکیں؛ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ صرف اپنی نابودی کا راستہ زیادہ سے زیادہ ہموار کررہے ہیں۔3۔ اگرچہ ہم اپنے مؤمن ہم مکتب افراد کے صدمے کی وجہ سے عزادار و سوگوار ہیں لیکن غافل دشمن جان لیں کہ خدا کی راہ میں شہادت ہماری دیرینہ آرزو ہے اور خون شہید کا ہر قطرہ آزادی اور حریت کے ایک تناور درخت کی آبیاری کرتا ہے اور اپنے دین و عقیدے کی راہ میں ہماری استقامت اور پامردی کو زیادہ سے زیادہ استحکام بخشتا ہے۔4۔ افغانستان کے مظلوم عوام مشرقی استعماری بلاک کے قابضین کے خلاف برسوں تک جہاد کرتے رہے ہیں آج زمین و فضا سے مغربی استعماری بلاک کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اعلی اسلامی اقدار و اہداف کے پابند ہیں۔ اس قوم نے اپنی آزادی کی راہ میں دس لاکھ سے زائد شہداء اور دسیوں لاکھ معذوروں کی قربانی دی ہے اور کئی ملین ابھی تک بے گھر یا بے وطن ہو کر دوسرے ملکوں میں قیام پذیر ہیں لیکن اس کے باوجود خدا، رسول خدا (ص) اور اہل بیت (ع) کی راہ میں پہلے سے زیادہ تعہد اور ذمہ داری کے ساتھ استقامت کررہے ہیں۔ 5۔ انسانیت کے دشمن کچھ عرصے سے ایک بار پھر "تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو (Divide and Rule)" کی بوسیدہ اور فرسودہ پالیسی پر کاربند ہو اسلامی خطے کو مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی آگ میں دھکیل کر راکھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس مذموم اور بھونڈی پالیسی کا مقابلہ صرف اور صرف شیعہ اور سنی مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کی صورت میں ممکن ہے، چنانچہ جس طرح کہ افغان عوام نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ اس ملک میں مختلف مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہمی دوسرے ملکوں کی نسبت کہیں زيادہ ہے، اب بھی توقع کی جاتی ہے کہ کابل اور مزار شریف کا خون آلود یوم عاشورا کے واقعات مذہبی اختلافات کا سبب نہ بنیں۔6۔ طویل برسوں سے تکفیری دہشت گرد، مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی اور بعض عرب ریاستوں کی مالی امداد سے پاکستان، عراق اور افغانستان میں پیروان اہل بیت (ع) کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن مؤمنین نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور تکفیریوں کے مقابلے میں کوئی سنجیدہ اقدام عمل میں نہیں آیا ہے؛ لیکن اس سال تاسوعا اور عاشورا کو ان کی طرف سے ان بزدلانہ جرائم کے ارتکاب کے بعد خدشہ ہے کہ دہشت گردی کی ان کاروائیوں کا یہ دامن دوسرے ممالک تک بھی پھیلا دیا جائے اور اس کے بعد اس قسم کی کاروائیوں میں بھی ہمیں شیعیان آل محمد (ص) کے کشت و خون کا نظارہ کرنا پڑے۔ چنانچہ پیروان اہل بیت (ع) اور دنیا کے حریت پسند اور مستضعفین کو ان جرائم کا سد باب کرنے کے لئے اقدامات کے مناسب راستوں کا جائزہ لینا چاہئے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔7۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے بلند بانگ نعرے لگانے والی نام نہاد مغربی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مفاہیم کو حقیقی حریت پسندوں کو کچلنے کے لئے ایک مؤثر حربے میں تبدیل کردیا ہے اور اب یہ تنظیمیں خود جواب دیں کہ اگر وہ واقعی اقوام کے حقوق کی درپے ہیں، وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ان دہشت گردوں کی حمایت سے روکتی کیوں نہيں ہیں؟8۔ گوکہ افغانستان کے اعلی اہلکاروں کے فوری اقدامات اور اس ملک کے صدر کا بیرونی سفارتی دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آنا، حوصلہ افزائی کا باعث ہے لیکن جو چیز امت اسلامی کی خوشنودی اور شہیدوں کے خاندانوں کے مجروح دلوں پر پر مرہم رکھنے کا باعث بنے گی، یہ ہے کہ "پس پردہ مجرموں کو فوری طور پر قرار واقعی سزا دی جائے" اور "اس مذموم سلسلے کا سد باب کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات عمل میں لائے جائیں"۔ یہ اہداف افغانستان کے ذمہ دار حکام اور اس ملک کے عوام کے اتحاد و یکجہتی کے سوا قابل حصول نہیں ہونگے۔ 9۔ ان وحشیانہ اور خونخوارانہ جرائم میں وہابی علماء کی تشہیر و تبلیغ اور آل سعود کی وہابی حکومت کی مدد و حمایت کا کردار بہت بنیادی ہے۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان تمام جرائم اور مظالم، اور ان مؤمنین کے خون کے ہر قطرے میں شریک ہیں اور وہ بہت جلد رسول اللہ (ص) کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا جواب دینا پڑے گا اور اپنے بھاری جرائم اور برے کردار کے عوض بھاری سزا و کیفر پائیں گے۔10۔ ممالک کے آگاہ علماء، ذمہ دار دانشووں، مفتیوں، ہدایت و ارشاد کے کرسیوں کے مالکوں، نیز اسلامی ممالک کی علماء تنظیموں کو جان لینا چاہئے کہ وہ سب اس حوالے سے ذمہ دار اور جوابدہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ علماء ان جرائم پر اپنی خاموشی کب تک جاری رکھیں گے؟ وہ مسلمانوں کی جان و مال پر جارحیت سے ممانعت اور قبلہ کی طرف کھڑے ہوکر عبادت کرنے والے مسلمانوں کی خونریزی کی حرمت خدا کے واضح احکامات اور پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعت کی فیصلہ کن آراء بیان کیوں نہیں کرتے؟ وہ مجرمانہ اعمال، اہل بیت نبی (ص) کے مظلوم پیروکاروں کے قتل عام کی اعلانیہ مذمت کیوں نہیں کرتے؟ ان علماء کو جان لینا چاہئے کہ وہ ان جرائم پر خاموش رہ کر درحقیقت ان جرائم پیشہ عناصر کی حمایت کررہے ہیں، چنانچہ وہ اس حوالے سے خداوند متعال کی بارگاہ میں جوابدہ ہونگے۔ 11۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی ان وحشیانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے تمام غیور اور متعہد (Committed) سے اپیل کرتی ہے کہ بیانات، تقاریر اور اجتماعات کے ذریعے ان مظلوم شہیدوں کی صدا دنیا والوں تک پہنچادیں، دہشت گردی کی ان کاروائیوں کی مذمت کریں اور قانونی راستوں سے اہل بیت نبی (ص) کے مظلوم پیروکاروں کا دفاع و تحفظ کریں۔ آخر میں ان عزاداران حسینی کی شہادت کی مناسبت سے حضرت ولی عصر امام زمانہ (عج)، حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای، مراجعِ عظامِ تقلید اور دنیا کے تمام مسلمانوں اور شیعیان آل محمد (ص)، افغانستان، پاکستان اور عراق کی شہید پرور قوموں بالخصوص سوگوار خاندانوں کو ان کے عزیزوں کی شہادت پر مبارکباد اور تسلیت و تعزيت پیش کرتے ہیں، شہداء کے لئے بارگاہ الہی سے سیدالشہدا علیہ السلام کے دسترخوان پر پذیرائی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل اور اجر جزیل کی، التجا کرتے ہیں۔نیز ہماری دعا ہے کہ خداوند متعال ان واقعات کے زخمیوں کو جلد از جلد صحت و عافیت کا لباس پہنائے اور اپنے ولی و حجت (عج) کے ظہور میں تعجیل فرما کر مستضعفینِ عالَم کے ہموم اور فکرمندیاں زائل فرمائے - آمیناور ہم بھی کربلائے امام حسین صلوات اللہ علیہ کے عاشورائیوں کی مانند فریاد کرتے ہیں:
"لایوم کیومك یا ابا عبدالله" و "هیهات منا الذلة" و "کلنا قواك یا حسین".وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی11 محرم الحرام 14337 نومبر 2011
قابل ذکر ہے کہ پرسوں عاشورا کے دن افغانستان کے حسینی عزاداروں کو تین شہروں یعنی دارالحکومت کابل، مزار شریف اور قندہار میں دہشتگردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ افغانستان میں عزاداروں پر اس طرح کے دہشت گردانہ حملوں کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان حملوں میں 200 کے قریب عزاداران حسینی شہید یا زخمی ہوئے۔ نیز پاکستان اور عراق میں کئی عزادار دہشت گردوں کے حملوں میں شہید اور زخمی ہوئے۔ .....................
/ 110