30 نومبر 2011 - 20:30

اقتصادی ، سماجی ، اخلاقی اور سیاسی ہر اعتبار سے د یوالیہ پن کا شکار بوڑھا برطانوی سامراج گویا آج بھی اسی خواب ميں ہے کہ اس کی سلطنت کا سورج غروب نہیں ہوتا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تبدیل ہوچکی ہے اور ...

اقتصادی ، سماجی ، اخلاقی اور سیاسی ہر اعتبار سے د یوالیہ پن کا شکار بوڑھا برطانوی سامراج گویا آج بھی اسی خواب ميں ہے کہ اس کی سلطنت کا سورج غروب نہیں ہوتا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تبدیل ہوچکی ہے اور اس کا اعتراف خود وہاں کے لوگوں کو ہے مگر شاید امریکا اور برطانیہ تیسری دنیا کے لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کو آج بھی اپنا غلام بنائے رکھنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہيں یہی تو وجہ ہے کہ ان کے نزدیک نہ تو مسلمانوں کی جان و مال کی کوئي اہمیت ہے اور نہ ہی ان کے اقدار و مقدسات کی کوئی وقعت ہے وہ جب چاہتے ہيں کسی بھی مسلمان ملک پر یلغار کردیتے ہیں، جب ان کا دل چاہتاہے وہ مسلمانوں کے مقدسات کی اہانت کردیتے ہيں ان کا جب جی چاہے وہ کسی بھی ملک پر کسی بھی بہانے حملہ کردیں اور تو اور مسافر طیارے تک کوبھی مار گرانا اور بے گناہ شہریوں کو خاک و خون میں نہلادینا اپنا پیدائشی اور سامراجی حق سمجھتے ہيں اور اس پر غرہ یہ بھی کہ ان کے ان ظالمانہ اقدامات پر کوئي اف تک نہ کرے ورنہ وہ یا تو دہشتگرد ہوجائے گا یا پھر عالمی قوانین کا مخالف ۔ برطانیہ اور امریکا کی اس سرشت کا اظہار آج اس عالم میں بھی ہورہا ہے کہ جب ان کی اقتصادی بنیادیں ہل ہوچکی ہيں اور ان کے سرمایہ دارانہ نظام کا جنازہ خود ان کے ہی عوام نے نکال کر رکھ دیا ہے ۔ مگر یہ تو بیچارے مسلمان ہيں کہ وہ ابھی ان سامراجی ذہنیت کا نشانہ بنے ہوئے ہيں پاکستان جیسے خود مختار ملک کی فوج پر بھی حملہ کردیں تو بھی یہ ان کا حق ہے ، صرف اتنا ہی کہدینا وہ اپنے لئے کافی سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ دانستہ نہیں ہوا ہے۔ کیا غلطی کی کوئي سزا نہيں ہوتی ؟ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جب ایران کے عوام نے سامراجی طاقتوں کو للکارا اور اپنے ملک سے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئے تو یہ صورتحال ان کے لئے کسی بھی صورت قابل برداشت نہ تھی کیونکہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل تک وہ ایران کو اپنی کالونی سمجھا کرتے تھے مگر نہ صرف یہ کہ ایران کے عوام نے ان کے پیر یہاں سے اکھاڑ دئے بلکہ دنیا کی دیگر قوموں کو بھی یہ حوصلہ دیا کہ وہ بھی اب ان سامراجی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کريں ۔ یہی وجہ ہے کہ بوڑھے سامراج برطانیہ اور امریکا نے ایران کے عوام کے خلاف دشمنی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا انقلاب کے فورا بعد ایران پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی طرح طرح کی پابندیاں عائد کئي گئيں ، دہشتگرد گروہوں کے ذریعے ایران کے اسلامی نظام کی اہم شخصیتوں کو نشانہ بنایا اورانہیں شہید کیا ایران کے مسافر طیارے کو میزائیل سے مار گرایا جس میں دو سو نوے مسافر شہید ہوئے، لندن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے پر حملہ کرایا جس کے نتیجے میں متعدد ایرانی سفارتکاروں نے جام شہادت نوش کیا اور دیگر یورپی ملکوں میں بھی ایران کے سیاسی دفاتر حملے ہوئے ، عداوتوں کا یہ سلسلہ مختلف بہانوں سے جاری رہا ۔ اور تازہ ترین اقدام کے تحت برطانوی حکومت نے ایران پر غیرقانونی پابندیاں بھی عائد کیں جس پر احتجاج کرتے ہوئے ایران کی یونیورسٹیوں کے طلباء نے تہران میں واقع برطانوی سفارتخانے کے باہر احتجاج کیا اور کچھ طلباء جوش میں آکر سفارتخانے کے اندر بھی داخل ہوئے جنھیں پولیس نے باہرنکالا اور ان کو گرفتار کرکے قانون کے حوالے بھی کیا اس واقعے میں نہ تو عمارت کو کوئي نقصان پہنچا نہ ہی برطانوی سفارتی عملے کو کوئي گزند پہنچی ، مگر سامراج کا مزاج دیکھئے کہ ہم تمہارے ساتھ جو بھی کریں وہ سب ہمارا حق ہے تمہارے عوام بھلا ہمارے دروازے پر آکر ہم سے احتجاج کیسے کرسکتے ہیں ؟ اس واقعے پر فورا سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا مذمتی بیان جاری کیا گیا اور ایران کو طرح طرح کی دھمکیاں دی جارہی ہيں اور ایران سے اپنا پورا سفارتی عملہ بھی واپس بلا لیا گیا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران کی پارلیمنٹ نے پہلے ہی تہران سے برطانوی سفیر کو نکال باہر کرنے کا بل منظور کردیا تھا مگر برطانوی سامراج نے عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تمام سفارتی عملے کو واپس بلالیا اور ایران کے سفارتخانے کو بھی لندن میں بند کردینے کا فیصلہ کرلیا ۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل نے اس وقت کیوں اجلاس طلب کرکے برطانیہ کے خلاف مذمتی بیان جاری نہيں کیا جب انیس سواسیّ میں لندن میں ایران کے سفارتخانے پر حملہ کرکے متعدد ایرانی سفارتکاروں کو شہید کردیا گیا تھا سلامتی کونسل نے اس وقت کیوں ہنگامی اجلاس طلب کرکے امریکا کی مذمت نہ کی جب اس نے انیس سو اٹھاسی میں ایران کے مسافر طیارے کو مارگرایا تھا، سلامتی کونسل نے اس وقت کیوں مذمتی بیان جاری نہيں کیا جب نیٹو اور امریکا کے جنگی ہیلی کاپٹروں نے ابھی حال ہی میں پاکستان کی سرحد علاقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹھائیس کے قریب پاکستانی فوجیوں کو موت کی نیند سلادیا ۔کیا یہ سب کچھ امریکا برطانیہ اور سامراجی ملکوں کا حق ہے ؟ بلاشبہہ تمام حریت پسندوں اور مسلم اقوام و رہنماؤں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے جو امریکا اور مغرب کو اپنی پناہ گاہ سمجھتے ہیں ۔ بہرحال برطانیہ نے جس شدت پسندی کا اقدام کیا ہے اور جس کے ذریعے وہ اپنے صہیونی آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کررہا ہے وہ اس کے لئے بہت ہی مہنگا ثابت ہوگا کیونکہ اب منہ زوری اور استکباری پالیسیوں کو دوسروں پر مسلط کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے، قوميں آزاد ہوچکی ہيں اور ان میں شعور پیدا ہوچکا ہے ۔ برطانوی حکام کو بہر حال یہ سوچنا پڑے گا ۔ برطانیہ سے سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ پوری ایرانی قوم کا فیصلہ ہے اور پارلیمنٹ میں اس کے لئے بل بھی منظور ہوچکا ہے بنابریں اگر آج برطانیہ نے مکمل طور پر سفارتی تعلقات منقطع کرلئے تو ایران کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے ۔ یہی ایرانی طلباء تھے جنھوں نے انیس سو اسي ّ میں تہران میں امریکا کے سفارتخانے پر قبضہ کرکے جو جاسوسی کے اڈے میں تبدیل ہوچکا تھا امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو منقطع کرلیا تھا اور دنیا نے دیکھا کہ آج ایران کے اسلا می نظام اور ایرانی قوم کی عالمی سطح پر جو عزت و احترام ہے اس کی بڑی وجہ امریکا جیسی نام نہاد بڑی طاقتوں کو للکارنا اور اس کے ناپاک وجود کا اپنی سرزمین سے صفایا کردینا ہے ۔ چنانچہ جیسا کہ ایران کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے عوام اس بات سے خوش ہيں کہ برطانیہ کے وجود کا ان کی سرزمین سے صفایا ہوگیا اوراسی میں وہ اپنی عزت و سربلندی دیکھتے ہیں جس طرح امریکا کو اپنے یہاں سے نکال کر وہ خوش اور ہر طرح سے آسودہ ہيں ۔........

/110