اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ اور آل سعود کے مظالم و جرائم کا سلسلہ جاری ہے اور دو مزید بحرینی نوجوانوں کی شہادت کے بعد قیام بحرین کے شہداء کی تعداد 52 ہوگئی ہے۔حال ہی میں خلیفیوں نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو گاڑیوں سے کچلنے کا منظم طریقہ اپنایا ہے اور حال ہی میں ایک 16 سالہ نوعمر لڑکے کو کچلنے کے بعد کل بھی ایک بحرینی شہرین "حاج عبد النبی کاظم عاقل" کو "عالی" نامی قصبے میں پولیس کی گاڑی نے کچل کر شہید کردیا ہے۔ اسی اثناء میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق خلیفی گماشتوں کے ہاتھوں گاڑی سے کچلے جانے کے نتیجے میں شہید ہونے والے شہید علی بداح الستراوی کی مجلس فاتحہ پر خلیفیوں نے زہریلی گیس کے گولے پھینکے اور اس حملے کے نتیجے میں بھی کل ایک چھوٹا بحرینی بچہ دم گھٹ کر شہید ہوگیا ہے۔ اس خبر کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ 14 فروری 2011 سے شروع ہونے والی اسلامی تحریک کی ابتداء سے اب تک بحرینی شہداء کی تعداد 52 ہوگئی ہے جو بحرین کی چھوٹی آبادی کے تناسب سے ایک بڑی تعداد سمجھی جاتی ہے۔
ــ خلیفی بادشاہ کو اوباما کی ہدایت: صورتحال کو فوری طور پر انقلاب سے قبل کی صورت حال کو فوری طور پر بحال کرو ورنہ .......امریکیوں نے اپنے کٹھ پتلی کو سخت لب و لہجے میں پیغام دیا ہے کہ اگر وہ اس سال کے آخر تک انقلاب کا خاتمہ نہ کرسکے اور انقلاب سے قبل کی صورت حال بحال نہ کرسکے تو ان کو ہٹا دیا جائے گا اور ان کی جگہ آل سعود کے مشورے سے سنی اقلیت کے کسی فرد کو حاکم بنایا جائے گا۔اس پیغام میں زور دیا گیا ہے کہ امریکہ انقلاب کے کچلنے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کرے گآ۔ امریکہ اور اس کے عرب حلیفوں نیز جنوبی ایشیا کے بعض ممالک نے آل خلیفہ کی بھرپور مدد و حمایت کی ہے لیکن اس کے باوجود انقلابی تحریک جاری ہے اور بیرونی افواج کی وسیع موجودگی کے باوجود اس ملک سے استحکام اور امن و امان نے رخت سفر باندھ لیا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ اب آل خلیفہ کو اپنے مہربان آقا کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔بے باک نیوز ویب سائٹ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکہ انقلابی تحریک کو کچلنے میں ناکامی کے باعث آل خلیفہ کے بادشاہ حمد بن عیسی کو ہٹانا چاہتا ہے۔ اسلام ٹائمز کی رپورٹ میں ہے کہ امریکہ نے خلیفی بادشاہ سے کہا ہے کہ اگر وہ 2011 کے آخر تک ملک میں استحکام نہ لا سکیں اور انقلاب کا گلا گھونٹنے میں ناکام رہیں تو بہتر یہی ہو گا کہ وہ اپنے اقتدار کی قربانی دے کر استعفا دیں اور اقتدار سے محرومی کی قیمت پر بحرین میں استحکام پیدا کریں۔اس رپورٹ کے مطابق امریکہ اور آل سعود مل کر آل خلیفہ حکمران خاندان کی بجائے سنی اقلیت کے ایک فرد کو بحرین کی حکومت سونپنا چاہتے ہيں۔بحرینی عوام فروری سے اس ملک میں سیاسی اصلاحات کے نفاذ، منتخب حکومت اور پارلیمان، وزیر اعظم کی برطرفی، آئینی بادشاہت اور بیرونی باشندوں کی شہریت کی منسوخی کے لئے مظاہرے کررہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ عظیم قربانیاں بھی دے چکے ہيں اور ظلم و جبر و قتل و غارت اور مقدس مقامات کے انہدام کے باوجود بیرونی اور اندرونی قوتوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ 52 افراد شہید ہوگئے ہيں، ہزاروں زخمی ہزاروں قید اور ہزاروں دیگر کو حکومت نے بے روزگار کرتے ہوئے ان پر بھوک مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ عجب یہ کہ تشدد اور قتل و تشدد کی وجہ سے عوام کے مطالبات میں آل خلیفہ خاندان کے زوال اور سرنگونی کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110







