22 نومبر 2011 - 20:30

سعودی عرب میں تیسرا شہید / عوام پر آل سعود کے مظالم کی مذمت / دوشہیدوں کے لئے کفن پوش جلوس جنازہ کی درخواست / سعودی عرب میں تبدیلی کا طوفان / آل سعود نے 17 فعال افراد کو اسیر کردیا / سعودی عرب کی نجات کا راستہ حقیقی اصلاحات ہیں / سعودی عرب میں احتجاجی جنگی گولیوں کا نشانہ / اور آل سعود، سرنگونی کی راہ پر گامزن۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق گدشتہ تین دنوں کے دوران آل سعود کے ہاتھوں العوامیہ اور القطیف کے تین شہری گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوئے ہیں۔ تین شہادتوں اور الشرقیہ میں عوامی تحریک نے آل سعود کی نیندیں اڑادی ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلامی بیداری کی لہر سعودی عرب کے مشرقی ساحلوں نے اس ملک میں داخل ہوگئی ہے۔ مشرقی سعودی عرب میں القطیف اور العوامیہ کے عوام نے آل سعود کے گماشتوں کی گولیوں سے تین نوجوانوں کی شہادت کے بعد مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔سعودی عرب کی مجموعی صورت حال کی تفصیل: ــ تیسرے نوجوان کی شہادت

موصولہ اطلاعات کے مطابق قطیف میں شہداء کی تعداد تین ہوگئی ہے۔سعودی سیاستدان "توفیق السیف" نے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت عنقریب ایک تفتیشی ٹیم صوبہ القطیف میں بھجوا رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ القطیف میں محرم الحرام کی آمد آمد پر رونما ہونے والے افسوسناک واقعات نے اس علاقے کے شیعیان اہل بیت (ع) میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس علاقے کے تین نوجوان شہید ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں شہریوں کی شہادت کی تردید کئے بغیر کہا ہے کہ مقتولین کی یہ تعداد درست نہیں ہے!۔

ــ عوام پر آل سعود کے مظالم کی مذمتجزیرہ نمائے عرب کے تحفظ حقوق انسانی کے سربراہ "شیخ محمد الحسین" نے ایک بیان میں پرامن احتجاج کرنے والے عوام پر آل سعود کے مظالم اور آل سعود کے حکمرانوں کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی کی کہا ہے کہ عوام کے قتل عام کی پالیسی ملک و ملت کے مسائل کے حل کا راستہ نہیں ہے اور طاقت کے استعمال سے ظاہر ہورہا ہے کہ آل سعود کے حکام عوامی قیام کی ماہیت اور نوعیت سے بری طرح خوفزدہ ہیں۔شیخ الحسین نے خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال بنیادی حقوق کے خواہاں عوام کے عزم میں خلل نہیں ڈال سکیں گے۔

ــ عوام سے دوشہیدوں کے لئے کفن پوش جلوس جنازہ نکالنے کی درخواستسعودی نوجوانوں کی تحریک "حركة شباب الكرامة في السعودية" نے اپنے بیان میں آل سعود کی استبدادی حکومت کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے درخواست کی ہے کہ کفن پوش ہوکر تین شہیدوں کے جلوس جنازہ میں شرکت کریں۔ حرکۃ الکرامہ نے الشرقیہ کے علاقے میں اپنے ایک بیان میں شهيد المحيشي اور شهيد الفلفل کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے تعزيت و تسليت کا اظہار کیا اور کہا: آل سعود نے الشرقیہ میں دو افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ہے اور ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنی عزت و کرامت کے دوبارہ احیاء کے لئے ـ جو گذشتہ ایک صدی سے پامال ہوتی آرہی ہے ـ متحد ہوجائیں تا کہ عدل و انصاف پورے ملک میں قائم ہوجائے اور اس سرزمین کے تمام طبقے ماضی کی طرح اور آل سعود کے ہاتھوں القطیف کے عوام کو بدنام کئے جانے سے پہلے کی مانند، خوبی اور خوشی کے ساتھ مل کر زندگی بسر کریں۔ حرکۃ الشباب الکرامہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: اسلام انسانوں کی پر امداد بقائے باہمی اور پر امن زندگی کی تلقین کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں مدینہ منورہ کے باشندوں کی زندگی اس اسلامی اصول کی بہترین مثال ہے۔ تحریک نے اپنے بیان میں القطیف کے عوام سے اپیل کی ہے کہ استبدادی حکمرانوں کے ظلم و جور کے خاتمے اور آل سعود حکومت کی مشروعیت (Legitimacy) کی سست بنیادیں اکھاڑنے کے لئے اپنا اتحاد قائم رکھیں اور اس جابر و مستبد حکومت کے مظالم و جرائم سے پوری دنیا آگاہ ہے اور دنیا جانتی ہے کہ یہ حکومت بے گناہوں کو قتل کرتی ہے، نوجوانوں کو اسیر بناتی ہے اور قطیف کو مختلف حیلوں بہانوں سے جبر و دباؤ کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ بیان میں آیا ہے: کفن پوشی کا مفہوم یہ ہے کہ ہم راہ خدا میں جام شہادت نوش کرنے کے لئے تیار ہيں اور ایسا کرنا حکومت کو خوفزدہ کرنے کے لئے ضروری ہے؛ چنانچہ جوانوں کی تحریک کرامت القطیف کے عوام سے اپیل کرتی ہے کہ کفن پہن کر اپنے شہداء کے جسموں سے وداع کرنے اور ان کے جلوس جنازہ میں شرکت کے لئے نکلیں اور تشئیع کے مراسمات کے دوران الاحساء اور القطیف نیز مقبوضہ بحرین کے شہداء کا خون ہرگز رائگان نہ جائے گا۔ ــ سعودی عرب میں تبدیلی کا طوفانایک مصری مبصر نے سعودی عرب کے منطقۃالشرقیۃ میں آل سعود کے حالیہ تشدد اور جنگی گولیوں کے ذریعے عوامی احتجاج کو کچلنے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں تبدیلی کا طوفان آچکا ہے جو اس علاقے کو کبھی بھی ترک نہيں کرے گا۔ "علي ابوالخير"  نے کہا: سعودی عرب کے منطقۃالشرقیۃ میں اصلاحی تحریک نئی نہیں ہے اور یہ سعودی عرب میں عربی بہار کے داخلے کی علامت نہيں ہے بلکہ سعودی عرب میں برسوں سے اصلاحی تحریکیں سرگرم عمل ہیں۔ انھوں نے کہا: جنوب میں نجران اور شارورہ کے علاقوں میں نیز حجاز اور مدینہ منورہ میں بھی احتجاجی اور سیاسی تحریکیں موجود اور فعال ہیں۔ ابوالخير نے کہا: منطقۃالشرقیۃ کی اصلاحی تحریک اس ملک کی دوسری تحریکوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتی ہے اور یہ جو حکومت جنگی گولیوں سے پر امن احتجاج کو کچل دیتی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت اصلاحی تحریک کی رفتار کم کردے لیکن اس جبر کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ تبدیلی کا طوفان آرہا ہے۔ انھوں نے کہا: ایک مکمل نوجوان اور تعلیم یافتہ نسل سعودی عرب کے اندر معرض وجود میں آئی ہے اور یہ نسل کسی صورت میں اپنے حکمرانوں سے راضی نہيں ہے۔ انھوں نے مزید کہا: عربی انقلابات نمایاں ہونے کے بعد آل سعود نے تبدیلی کے خطرے سے بچنے کے لئے وسیع کوششیں کیں اور اسی بنا پر اس نے مصر، تیونس، یمن، بحرین اور دوسرے ممالک میں مداخلت کی تا کہ جمہوریت پسندی اور اصلاحات کی لہر ریاض تک نہ پہنچنے دے۔علي ابوالخير نےکہا: سعودی عرب کے حالات خلیج کی ساحلی ریاستوں میں سے کسی ایک ریاست سے بھی نہیں مماثلت نہیں رکھتے کیونکہ ذرائع ابلاغ کی کوشش ہے کہ الشرقیہ کے علاقے یا حجاز اور بحرین کے واقعات کو کوریج نہ دیں نیز آل سعود خاندان کے مسائل کے سلسلے میں مکمل تشہیری اور ابلاغی سنسر کارفرما ہے۔

ــ آل سعود نے 17 فعال افراد کو اسیر کرلیاسعودی عرب میں حالیہ احتجاجات کی لہر اٹھنے کے بعد اس ملک کی نام نہاد عدالت نے جامعات کے اساتذہ اور قانوندانوں میں سے 17 فعال افراد کو قید کی سزا سنائی ہے۔ ان پر آل سعود کی عدالت نے "فتنہ انگیزی کا الزام لگایا ہے۔ ان افراد کو تیس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ان افراد کی اکثریت ان وکلاء اور اساتذہ سے تعلق رکھتی ہے جو 2007 میں جدہ شہر میں اصلاحات کی تجاویز تدوین کرنے کے لئے اکٹھے ہوگئے تھے اور وہیں سے گرفتار کئے گئے تھے۔ آل سعود کی پولیس نے دو دیگر افراد کو اصلاحات کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں گرفتار کرلیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان 17 افراد کو پرامن سیاسی اصلاحات کے حامی قرار دیا ہے اور آل سعود سے مطالبہ کیہ ہے کہ پر امن مظاہرین اور ان کے اہل خانہ کو تنگ کرنے اور ان کی خودسرانہ گرفتاریوں سے باز آئے۔ ــ سعودی عرب کی نجات کا راستہ حقیقی اصلاحات ہیںایک سعودی دانشور نے خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کی اپنے ملکوں سے وفاداری کے حوالے سے کسی شک و شبہے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب سمیت خلیج فارس کی ریاستوں پر حاکم خاندانوں کی واحد راہ نجات یہ ہے کہ وہ حقیقی اصلاحات کے لئے اقدامات کریں۔ عقل الباہلی نے نے کہا: خلیج فارس کی ریاستوں کے حکمران خاندانوں کے ذہن میں اپنے شہریوں کے بارے میں نہایت خطرناک اور اہم اندیشہ پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنے ملک سے عوام کی وفاداری کو شک و تردد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انھوں نے سعودی کے علاقے الشرقیہ میں کئی افراد کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں توقع یہ تھی کہ آل سعود کی وزارت داخلہ اور حالیہ واقعات اور کئی نوجوانوں کی شہادت کے سلسلے میں ایک مفصل بیان جاری کرے گی۔انھوں نے پرامن مظاہرین پر جنگی گولیوں سے حملہ کرنے کے سعودی رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا: انسانوں کا قتل ایک سادہ سا مسئلہ نہيں ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آل سعود اور بعض دیگر ممالک کے حکمرانوں کو جب بحران کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اس طرح کی خلاف ورزیاں کرتے ہيں۔ــ سعودی عرب میں احتجاجی جنگی گولیوں کا نشانہایک سعودی محقق نے آل سعود کی طرف سے اپنے ملک کے عوام کو وحشیانہ انداز سے جابرانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے عوام کو جنگی گولیوں کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات کی ذمہ داری آل سعود پر عا‏ئد کی اور قطیف اور جبیل میں ٹیکنالوجی کالج کے طلبہ پر فائرنگ کھولنے کے حوالے سے آل سعود کے عذر و توجیہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے وہ قوم دشمن حکومت کے جرائم میں برابر کا شریک ہے۔ انھوں نے کہا: پر امن تظاہرات کے ذریعے جائز حقوق کا حصول سعودی قوم کا بنیادی حق ہے لیکن آل سعود نے پر امن طلبہ پر فائرنگ کھول کر جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہيں۔ فؤاد ابراہیم نے مزید کہا: سعودی عرب کے حکمران عربی بہار کی آندھیوں سے نہیں بچ سکیں گے جبکہ یہ خاندان اپنے خیال میں وقت خریدنے کی کوشش کررہا ہے تا کہ عربی بہار اس ملک میں نہ پہنچ سکے۔ انھوں نے کہا: آل سعود خاندان اس بہار سے بچنے کے لئے تمامتر وسائل بروئے کار لارہا ہے اور تمام حربے بروئے کار لا رہا ہے۔ انھوں نے کہا: آل سعود کے حکمران بعض افراد کو رقم ادا کرکے خرید رہے ہیں اور اندرونی اور بعض بیرونی نیوز چینلز کو خرید کر اپنے خاندان کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ عربی بہار کی آندھی سے محفوظ ہيں تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ــ آل سعود، سرنگونی کی راہ پر گامزنایک سعودی محقق اور اہل قلم نے القطیف میں عوام کو وحشیانہ انداز سے کچلے جانے اور کئی افراد کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت سرنگونی اور زوال کی راہ پر گامزن ہوچکی ہے۔علی الاحمد نے کہا: سعودی حکومت نے القطیف میں شدید انتظامی اقدامات کئے ہیں، نوجوانوں کو پیچھے سے گولیاں ماری گئی ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ آل سعود خاندان ان افراد کے قتل کو سنی مسلمانوں پر عائد کرکے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دلوا کر علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کا ارادہ رکھتا ہے اور ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی رائے عامہ کی توجہ کئی دانشوروں، وکلاء اور اساتذہ کو لمبی قید سنانے سے، ہٹانا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا: شہیدوں کا خون آزادی کا تحفہ لاتا ہے اور آل سعود نے اس جرم کا ارتکاب کرکے اور نوجوانوں کا خون بہا کر اپنی سرنگونی اور زوال کی راہ پر قدم رکھا ہے۔ الاحمد نے کہا: عوام کے خلاف انتظامی اقدامات کو شدت بخشنے کا نايف بن عبدالعزیز کی ولیعہدی کے اعلان سے براہ راست تعلق رکھتے ہيں کیونکہ نائف بن عبدالعزیز ابتداء ہی سے جزیرہ نمائے عرب ک