عرب لیگ کو شام میں جو کچھ امریکہ واسرائیل دکھا رہا ہے وہ تو اس کو نظر آرہا ہے لیکن بحرین میں اس کو کچھ بھی نظر نہیں آرہاہے۔ بحرین میں عرصہ سے جو مظالم اہل تشیع پر ڈھائے جارہے ہیں ان پر تو یہ متعصب لیگ خاموش تماشائی بن کر بیٹھی ہے کیونکہ بحرین کی آزادی سے امریکہ و اسرائیل اور سعودیوں کی وہابی صہیونی ریاست کو خطرہ ہے۔ اورشام جو اسرائیل اور امریکی شیطانی پالیسیوں کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہے اور فلسطین کے مظلوموں کا حمایتی ہے یہاں عرب لیگ کے خیال میں شامی حکومت غلط کررہی ہے اسی لئے اس کو جانا چاہئے! عرب لیگ بے چاری عقل سے پیدل خود کچھ نہیں سوچتی کیونکہ امریکہ و اسرائیل نے اس کو سوچنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس کیلئے امریکہ و اسرائیل ہی سوچتے ہیں اور وہی اس لیگ کے رکن بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں سے کہتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ وہ تو بس اتنا ہی سوچتے ہیں کہ عیش و عشرت کے لئے کیا کیا راستے اپنائے جاسکتے ہيں اور دوسری طرف سے وہ صرف امریکی اور صہیونی پالیسیوں پر عملدرآمد پر مأمور ہیں اور امریکہ اور اسرائیل ان ہی کے ذریعے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔عرب لیگ کے رکن حکمران ہر اُس آواز کے خلاف اکٹھے ہوجاتے ہیں جس سے حقیقی اسلام کی بو آرہی ہو اور جس سے آمریتوں اور بادشاہتوں کو خطرہ ہو۔ اور آج تک ان کے کرتوتوں سے ثابت ہوا ہے کہ ان کی اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ لبنان کی ۳۳روزہ جنگ میں یہ سب اسرائیل کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور اسرائیلی جنگی جہاز ان ہی کے اڈوں سے تیل و اسلحہ سے لیس ہوجاتے تھے اور ساتھ ہی امریکہ و اسرائیل پر زور بھی دیتے تھے کہ جلد ہی بیداری کی اس لہر یعنی "حزب اللہ" کو ختم کردیں یہ الگ بات ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کو نوشتۂ دیوار پڑھا لیا اور اس کو اس کا انجام دکھایا۔2009 میں جب حماس کے خلاف صہیونی ریاست کی ۲۲روزہ جنگ شروع ہوئی تو یہ لوگ پھر بھی اسرائیل کے شان بشانہ کھڑے نظر آئے اور انھوں نے ثابت کیا کہ ان کی دشمنی شیعہ مکتب کے مجاہد پیروکاروں سے ہی نہیں بلکہ وہ سنی مجاہدین کے بھی دشمن ہیں۔عراق میں اکثریتی عوام کی نسل کشی میں بھی ان سب ہی ممالک، بالخصوص آل سعود کا پیسہ خرچ ہورہا ہے۔خود سعودی عرب میں صدیوں سے اہل تشیع کیساتھ جو کچھ ہورہا ہےاور ان پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کی آزادی کو سلب کیا گیا ہے۔ان کی ہر چیز پر حتی کہ مذہبی رسومات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کیا عرب لیگ کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا؟اسی طرح یمن میں بیدار و ہوشیار اور صہیونی امریکی سازشوں سے آگاہ اہل تشیع اور اس کے بعد ملت یمن پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سامنے عرب لیگ کی مجرمانہ خاموشی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے؛ یہ سب صعدہ کے مظلوم عوام کے خلاف سعودی امریکی حملوں کے دوران صہیونی میڈیا سے مل کر یمن میں القاعدہ کی موجودگی کا واویلا کررہے تھے جس میں کوئی حقیقت نہیں تھی بلکہ سب مل کر نہتے شیعیان صعدہ کا قتل عام کرنے میں مصروف تھے۔ عرب لیگ کی امریکہ اور اسرائیل سے وابستگی کے اثبات کے لئے کیا یہی بات کافی نہیں ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے اتنی تکلیف اسرائیل و امریکہ کو نہیں جتنی اس لیگ کو ہے، حالانکہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ تمام مسلم ممالک خصوصا عرب ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔ لیکن کم ظرف تو مجبور ہے اس کو تو وہی کچھ کرنا اور کہنا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کہتے ہیں۔حالیہ سعودی سفیر کے قتل کا ڈرامہ کیا ان معتصبانہ سازشوں کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے؟ کیا امریکہ کے ساتھ مل کر سعودی حکومت نے مشترکہ طور پر یہ سازش تیارنہیں کی تھی؟ واضح رہے کہ امریکہ اور آل سعود نے مل کر حال ہی میں یہ جعلی قتل کیس اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرایا گو کہ انہیں اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ کچھ عرصے سے امریکہ عرب ممالک کیساتھ دفاعی معاہدے کرکے ان سب کو اسلحہ فروخت کررہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ تجارت کے بہانے ایران کیخلاف ان غلام ممالک میں اپنے اسلحے کے ڈپو قائم کررہا ہے جبکہ لڑنے بھڑنے سے بیزار عرب حکمرانوں کو ایک چاقو کی ضرورت بھی نہیں ہے وہ تو چاقو استعمال کرنا تک نہیں جانتے تو بھر انہیں اسلحے کے ان ڈھیروں کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے۔ مشرق وسطی میں جو ہورہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اس کو روکنے کیلئے امریکہ و اسرائیل ایکہ کو بہت ہی بڑی جنگ درپیش ہے۔ اسلئے پہلے ہی سے سامان جنگ مشرق وسطی میں جمع کیا جارہا ہے۔لیکن عرب لیگ کی بدقسمتی دیکھئے کہ اس کے آقا امریکہ و اسرائیل کو اندرونی مسائل کا سامنا ہے اور ان کے آقا کمزور سے کمزور تر ہورہے ہیں اور اب وہ وہ وقت گزر گیا ہے جو امریکہ و اسرائیل چاہتے تھے ہوتا وہی تھا؛ اب وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110