ابنا: ایک تیونسی شہری سمیت گيارہ افراد سامرا کے مقدس روضوں میں دہشتگردانہ بم دھماکے کرنےکے مجرم پائے گئے تھے جنہيں آج موت کی سزا دے دی گئي۔یاد رہے بائيس فرودی دوہزار چھ کو تکفیری دہشت گردوں نے سامرا کے مقدس روضوں میں بم دھماکے تھے جنمیں دسیوں افراد کے شہید اور زخمی ہونے کے علاوہ روضہ کا گنبد اور مسجد بھی شہید ہوگئي تھی اور روضہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
ادھر عراق کے سیاسی لیڈر مقتدی صدر نے کہا ہے کہ شام کی اکثریت بشار اسد کی حکومت کی حامی ہے اور اس کی بقا چاہتی ہے۔ سید مقتدی صدر نے شام میں حکومت کے مخالف حلقوں سے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔ مقتدی صدر نےاس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اب بھی شام کے کچھ حصے صہيونی رياست کے قبضے میں ہیں، مخالف حلقوں سے کہا کہ آپ کو اپنے ملک کے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں حکومت کا خلا ملک میں دہشت گردی کے فروغ اور ملک کی تقسیم کا باعث ہوگا۔ ............
/169