15 نومبر 2011 - 20:30

امریکہ کے وزیر جنگ لئون پانٹا نے ایران پر عراق کے داخلی امور میں مداخلت کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ابنا: لئون پانٹا نے امریکی سینیٹ کی فوجی کمیٹی میں دعوی کیا ہےکہ عراق سے امریکی فوجیوں کی پسپائی کے بعد ایران اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گا۔ واضح رہے کہ بغداد واشنگٹن سیکورٹی معاہدے کے مطابق عراق میں موجود تقریبا تیس ہزار امریکی فوجیوں کو رواں سال کے آخر تک اس ملک سے نکل جانا ہے۔ امریکی حکام نے حالیہ مہینوں میں عراق میں اپنے کچھ فوجی باقی رکھنے کے لۓ عراق کے ساتھ ایک نۓ معاہدے کی بہت کوشش کی جو کہ ناکام ہو کر رہ گئي۔ عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے تسلسل کی مخالفت کۓ جانے کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کو خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے بارے میں تشویش کا سامنا ہے۔ امریکہ عراق سے اپنے فوجیوں کی مکمل پسپائی کے بعد بھی خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ امریکہ کو اس فوجی موجودگی کے لۓ کسی بہانےکی ضرورت ہے ۔ اگرچہ خطے میں اغیار کی جانب سے بحران پیدا کرنے کی پالیسی کوئي نئي چیز نہیں ہے اور ایران فوبیا امریکہ کی خارجہ پالیسی میں شامل ہے لیکن امریکہ کو اس وقت اس بات پر شدید تشویش ہے کہ خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی شدت کے ساتھ مخالفت کی جارہی ہے ۔ وائٹ ہاؤس ان مخالفتوں کا پیغام افغانستان اور عراق کے عوام کی جانب سے موصول کرچکا ہے ۔ اس لۓ امریکہ اب ایران فوبیاکی پالیسی کے ذریعے ایران اور خطے کے عرب ممالک کے تعلقات خراب کرنےکے درپے ہے ۔ اور اسی مقصدکے حصول کے لۓ اس نے ایران پر واشنگٹن میں تعینات سعودی عرب کے سفیر کو قتل کرنےکی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ امریکہ عرب ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات خراب کرکے اسلامی دنیا کی ترقی و پیشرفت کے سدراہ ہونا چاہتا ہے ۔ امریکہ نہیں چاہتا ہے کہ عراق اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات برقرار نہ رہیں۔ البتہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر عراق کے داخلی امور میں مداخلت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے بلکہ اس کا آغاز عراق میں امریکہ کے سابق فوجی حاکم پال بریمر کی حکمرانی کے زمانے سے ہی ہوگیا تھا۔ اس زمانے میں پال بریمر نے عراق میں ہونے والے بدامنی کے واقعات میں دوسرے ممالک کو ملوث قرار دیا تھا ۔ پال بریمر کے بعد عراق پر قبضے کے بعد اس ملک میں تعینات ہونے والے پہلے امریکی سفیر جان نیگرو پونٹے نے بھی ایران کے خلاف بے بنیاد پروپيگنڈے کو جاری رکھا ۔ اور اس کے بعد عراق میں امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد کے زمانے میں بھی ایران کے خلاف تشہیراتی مہم کا سلسلہ جاری رہا۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اور سابق صدر جارج بش کی جانب سے بھی امریکہ کے اسی موقف کی تقویت کی گئي حالانکہ اسی زمانے میں ایسی معتبر رپورٹیں منظر عام پر آچکی تھیں جن سے ثابت ہوگیاتھا کہ عراق میں دہشتگرد گروہوں اور سابق بعث پارٹی کے بچھے کچھے عناصر کے ساتھ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کے تعلقات تھے۔ اب جب سے عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے اپنے ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی مخالفت کی ہے تب سے امریکیوں نے عراق کے داخلی امور میں ایران کی مداخلت کے الزام میں شدت پیدا کردی ہے۔ جبکہ ایران اور عراق کے تعلقات کی منفرد خصوصیت ان تعلقات کا تاریخی ، مذہبی ، ثقافتی اور سیاسی بنیادوں پر استوار ہونا ہے جس کی وجہ سے ان دونوں ممالک کے تعلقات کی اہمیت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایران عراق کی سلامتی کو اپنی سلامتی جانتا ہے ۔ بنا بر یں امریکہ کے بے بنیاد الزامات اور اس کی مخاصمانہ تشہیراتی مہم ایران اور عراق کے باہمی تعلقات اور تعاون میں توسیع کے سدراہ نہیں ہوسکتی ہے۔
 
...........

/169