ابنا: پولیس نے اس بہانے سے مظاہرین پر تشدد کیا کہ وہ مظاہرین سے اس پارک کو خالی کرانا چاہتی ہے جس میں وہ مظاہرہ کررہے تھے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کے مرکزی ، ریاستی اور مقامی حکام نے قبضہ کرو تحریک کو ختم کرنے کے لۓ اپنے دباؤ میں شدت پیدا کردی ہے۔ امریکہ کے ایک فیصد طبقے کے دباؤ کی شکار میونسل کارپوریشن نے عوامی اجتماعات کی روک تھام کی اجازت حاصل کرنے کے لۓ عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس سے قبل بھی اسی سے ملتا جلتا اقدام نیویارک کی میونسپل کارپوریشن نے بھی زاکوتی پارک میں مظاہرین کے خلاف انجام دیا تھا جو مظاہرین کی استقامت کے باعث بے نتیجہ رہا۔ امریکہ کی موجودہ صورتحال کےحامی اس وقت پورٹ لینڈ میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تحریک کو ناکام بنا کر اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں۔ البتہ پولیس اور سیاسی حکام کی جانب سے خوف و ہراس کی پالیسی کے مقابلے میں وال اسٹریٹ مخالف تحریک نے مزید اقدامات انجام دیۓ ہیں مثلا امریکہ کے مختلف شہروں میں اور اس ملک میں دولت اور طاقت کی علامتوں کے سامنے مظاہرے کرنے کے بعد ایک شہر سے دوسرے شہر کی جانب مارچ کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے تاکہ اپنی آواز امریکہ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے باشندوں تک پہنچا سکیں۔ اس وقت وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کے سیکڑوں حامی نیویارک سے واشنگٹن کی جانب مارچ کررہے ہیں ۔ مظاہرین دو سو میل کا یہ سفر پیدل چل کر تقریبا بیس دنوں میں طے کرنا چاہتے ہیں۔ وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک امریکہ کی موجودہ صورتحال یعنی نا انصافی ، امتیازی سلوک اور بدعنوانی کے خلاف اعتراض ہے۔ اور جب تک یہ صورتحال جاری رہے گی تب تک اس کے خلاف اعتراضات کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ ان مظاہروں میں شریک اکثر افراد ایسے ہیں جو روزگار کی تلاش میں کئی مہینوں سے ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔ اور امریکہ میں مالیاتی بحران کے دوران اپنے گھروں سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ وہ اپنے ملک کے ان حکام کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں جو ہمیشہ مالداروں کے مفاد میں قانون بناتے ہیں اور ان کو مالیاتی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی حکام کی جانب سے جنگی پالیسیوں پر اصرار بھی عوامی اعتراضات میں شدت کا سبب بنا ہے۔ ان حالات میں امریکی حکام وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کو دبانے اور اسے ناکام بنانے کے لۓ کوشاں ہیں۔ بعض سیاستدانوں نے مظاہرین کو غنڈے قرار دیا ہے جبکہ بعض امن عامہ کے قیام اور نجی جائیدادوں کی حفاظت کے لۓ مظاہروں پر پابندی کے خواہاں ہیں۔ حتی وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کے مظاہروں کے دوران بعض افراد کی پر اسرار ہلاکت کو بہانہ بنا کر امریکہ کی پولیس نے خیمے نصب کرنے کو امن عامہ کے منافی قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بعید نظر آتا ہےکہ امریکی حکام مظاہرین کے غصے کو ہمیشہ کے لۓ دبانے میں کامیاب ہوجائيں گے کیونکہ جب تک اس ملک کے پندرہ ملین افراد کو روزگار نہیں ملتا ، غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنےوالے پینتالیس ملین افراد کا معیار زندگي بہتر نہیں ہوتا اور جب تک مڈل کلاس اور غریبوں کے ٹیکس جنگوں کے اخراجات کی صورت میں خرچ ہوتے رہیں گے تب تک امریکہ میں موجودہ صورتحال کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
.....
/169