ابنا: باروسو نے کہا کہ اقتصادی اور سیاس جغرافیہ کے منظر نامے میں بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں لھذا یورپ کو بھی چاہیے کہ متحد ہوکر قدم اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کے بحران سے معلوم ہوتا ہے کہ یورو زون کو مشترکہ پالیسیوں پرعمل کرنے کے لئے مزید اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے اور یورو کو استحکام پہنچانے کا یہ واحد راستہ ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق باروسو کا بیان برطانیہ کے لئے ایک سنگين وارننگ ہے جو اس وقت یورپ کے استحکام فنڈ میں شریک ہونے پر راضی نہیں ہے اور اپنا الگ راگ الاپ رہا ہے۔ برطانوی حکومت یورپی یونین کو مزید مستحکم کرنے بالخصوص یورو زون کو اقتصادی بحران سے نجات دینے کی مخالف ہے۔ برطانیہ نے یورو زون میں شمولیت حاصل نہیں کی ہے اور اپنی کرنسی پر اصرار کرتا ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہےکہ یورپی ملکوں کا اقتصادی ڈھانچہ ابھی اس قدر مستحکم نہیں ہے کہ انہیں واحد کرنسی کے زیر سایہ لایا جاسکے جبکہ جرمنی اور فرانس کا کہنا ہےکہ مشترکہ مالی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے کے لئے یورپی یونین کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کے ان ملکوں میں ان اختلافات سے جو سیاسی ، سکیورٹی اور فوجی میدانوں میں بھی پھیل گئےہیں یورپی یونین کا مستقبل خطرے میں پڑ گيا ہے۔ اس اختلاف کو لیبیا پر حملوں کے تعلق سے بھی دیکھا گيا۔ اور آج یہ اختلاف شنگن علاقے کے بارے میں بھی ظاہر ہوچکا ہے اور بعض ملکوں نے مشترکہ قوانین کے باوجود اپنی من مانی کی ہے۔ یونان میں تین برسوں سے جاری مالیاتی بحران کو حل کرنے میں یورپی یونین کی ناکامی اس یونین میں اختلافات کی اہم نشانی ہے۔ فرانس اور جرمنی جو یورپ کی بڑی اقتصادی طاقتیں ہیں جب وہ یوروزون کو بڑے زور و شور سے آگے بڑھارہی تھیں تو ان کی نظر میں صرف اور صرف اپنی مصنوعات کےلئے بڑی منڈی بنانا تھا لیکن اب جبکہ یورو زون مالیاتی بحران سے دوچار ہوچکا ہے یہ چاہتی ہیں کہ اس بحران کو حل کرنے میں کم سے کم کردار ادا کریں اور اپنی جیبوں سے انہیں کچھ نہ دینا پڑے۔ یورپ کے بڑے ملکون کی اس خود غرضی کو دیکھتے ہوے کہا جاسکتا ہےکہ یورپی یونین میں اختلافات کے جاری رہنے سے اس یونین کا خـاتمہ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گي ........
/169