اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قذافی کے انٹیلجنس افسر احمد رمضان نے کل (بدھ 9 نومبر 2011 کو) لبنان کے نیوز چینل "الآن" کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امام موسی صدر کی شہادت کے حوالے نئے انکشافات کئے ہیں۔احمد رمضان نے 1978 میں امام موسی صدر کی شہادت کے سلسلے میں نئے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ قذافی نے امام موسی صدر کے ساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات کے بعد اپنے گماشتوں اور حکومت کے دو سینئر اہلکاروں کو حکم دیا کہ "انہیں [امام موسی صدر اور ان کے ساتھیوں] کو لے جاؤ" اور وہ لوگ انہیں لے گئے اور کچھ دن بعد میں قذافی کے پرسنل سیکریٹری سے سنا کہ ان تین افراد کو قتل کردیا گیا ہے۔احمد رمضان نے قذافی سے امام موسی صدر اور ان کے دو ساتھیوں کے قتل کا حکم لینے والے افراد کے نام بھی بتائے اور کہا کہ یہ دو افراد اس وقت دارالحکومت طرابلس میں ہیں۔ معدوم ڈکٹیٹر قذافی کے انٹیلجنس افسر نے کہا: میری یہ بات وزارت خارجہ اور وزارت انصاف نیز قذافی سے وابستہ انسانی حقوق سوسائٹی میں موجود دستاویزات سے قابل اثبات ہے اور یہ جو قذافی حکومت نے کہا تھا کہ امام موسی صدر اور ان کے ساتھی لیبیا سے نکل گئے ہیں یہ ایک جھوٹا دعوی تھا جس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہ تھا بلکہ حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔قابل ذکر ہے کہ امام موسی صدر 1978 میں قذافی کی سرکاری دعوت پر لیبیا کے دورے پر گئے تھے جہاں سے وہ کبھی نہیں لوٹے۔ اس کے بعد ان کی شہادت یا قید اور اغوا کے بارے میں بے شمار دعوے سامنے آئے اور حال ہی میں ایک دعوے میں کہا گیا تھا کہ امام موسی صدر کو قذافی نے خود گولی مار کر شہید کردیا تھا لیکن لیبیا کی عبوری حکومت کے سرکاری اعلان سے ہی اس بارے میں یقین سے کچھ کہا جاسکے گا۔ ابنا کو امید ہے کہ امام موسی صدر اور ان کے ساتھ زندہ ہوں اور وہ سب اپنے خاندانوں کی آغوش میں لوٹ آئیں اور اپنے پرستاروں کے پر امید دلوں کی شادمانی کے اسباب فراہم کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
حالیہ دعوی:
ایک لبنانی ذریعے کا دعوی: امام موسی صدر معدوم قذافی کے ہاتھوں شہید ہوگئے ہيں