ابنا: لندن پوليس نے اعلان کيا ہے کہ بدھ کو يونيورسٹي طلبا کے مظاہرے اگر تشدد ميں تبديل ہوئے تو پوليس کو مظاہرين کے خلاف پلاسٹک کي گولياں استعمال کرنے کا اختيار ہوگا۔ پلاسٹک کي گولياں، پلاسٹک اور المونيم کو ملاکے تيار کي جاتي ہيں- پندرہ سينٹي ميٹر کي يہ گولياں دوسو کلوميٹر في گھنٹے سے زيادہ رفتار سے چلتي ہيں اور ستر ميٹر تک بہت دقيق عمل کرتي ہیں۔ برطانوي ذرائع ابلاغ کے مطابق پلاسٹک کي گولياں اب تک برطانيہ کے اندر استعمال نہيں کي گئي ہيں ليکن شمال آئر لينڈ ميں احتجاج کرنے والوں کے خلاف بارہا استعما کي گئي ہيں اور مہلک بھي ثابت ہوئي ہيں۔ لندن پوليس نے اسي طرح بدھ کے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لئے چار ہزار پوليس اہلکاروں کو تعينات کرنے کا اعلان کيا ہے۔دوسري جانب لندن کي شہري کونسل ميں گرين پارٹي کے رکن جيني جونز نے برطانوي پوليس کے فيصلے پر سخت اعتراض کيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پوليس نے احتجاجي طلبا کے خلاف پلاسٹک گي گولياں استعمال کيں تو برطانوي عوام کے سامنے جواب دہ ہوگي۔ برطانيہ کے اسکولوں، کالجوں اور يونيورسٹيوں کے طلبا، تعليمي بجٹ ميں کمي اور تعليمي اداروں ميں فيس ميں اضافے کے خلاف گزشتہ سال سے کئي بار مظاہرے کرچکے ہیں۔لندن ميں بدھ کے مظاہرے حکومت کے تعليمي بجٹ ميں کمي اور طلبا کو دي جانے والي سرکاري اعانت ختم کئے جانے کے خلاف ہورہے ہيں۔ اعلان کيا گيا ہے کہ سرمايہ دانہ نظام کے خلاف لندن کے سينٹ پال چرچ کے سامنے دھرنے پر بيٹھے افراد بھي مظاہروں ميں شرکت کريں گے۔قابل ذکر ہے کہ برطانيہ ميں حکومت اور پوليس کي سختي کے باوجود حکومت کي پاليسيوں کے خلاف عوام کے مظاہروں ميں روز بروز وسعت آتي جارہي ہے اور امريکا کي وال اسٹريٹ مخالف تحريک کے طرز پر لندن ميں بھي کئي ہفتے سے عوام نے سينٹ پال چرچ کے سامنے سرمايہ دارانہ نظام اور ڈيوڈ کيمرون کي حکومت کي پاليسيوں کے خلاف دھرنا دے رکھا ہے جس کے پيش نظر بدھ کو طلبا کے مظاہروں نے برطانوي حکام ميں يہ تشويش پيدا کردي ہے کہ اگر طلبا بھي اس تحريک ميں شامل ہوگئے تو اس کو کنٹرول کرنا ان کے بس ميں نہيں رہے گي۔
..............
/169