4 نومبر 2011 - 20:30

قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے عازمين حج کے نام اپنے پيغام ميں بعض اسلامي ممالک ميں جاري عوامي تحريکوں اور انقلابات کو عالم اسلام کے اہم ترين مسائل اور ان ميں مضمر حقائق کو اللہ کي نشانيوں سے تعبير کيا ہے ۔

ابنا: قائد انقلاب اسلامي نے عازمين حج کے نام اپنے پيغام ميں، جو ہفتے کے روز ولي امر مسلمين کے نمائندے اور ايراني کاروان حج کے سرپرست حجت الاسلام قاضي عسگر نے پڑھا ، نوجوان نسل، روشن فکر حضرات اور علمائے دين کي سنگين ذمہ داريوں کا ذکر کيا اور فرمايا کہ درپيش خطرات سے اسلامي ممالک کي نجات کا واحد راستہ اتحاد، ہمدلي اور عالم اسلام کے طاقتور بلاک کي تشکيل ہے۔قائد انقلاب اسلامي نے اپنے پيغام ميں فرمايا کہ بعض اسلامي ممالک ميں دين مخالف حکام کے تسلط اور دين کو ختم کرنے کي ان کي کوششوں کے باوجود اسلام پرشکوہ، موثر اور نماياں نفوذ و رسوخ کے ساتھ دلوں اور زبانوں کے لئے مشعل راہ بن گيا اور دسيوں لاکھ افراد کي گفتار و کردار ميں چشمہ خروشاں کي مانند جاري ہوکر ان کے اجتماعات اور طرز عمل کو تازگي اور گرمي حيات عطا کر رہا ہے۔

قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ گزشتہ ايک سال کے واقعات نے سب پر ثابت کر ديا کہ اللہ تعالي قوموں کے عزم و ارادے ميں ايسي قدرت پيدا کر ديتا ہے جس کا سامنا کوئي طاقت نہيں کر سکتي۔قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ سامراجي طاقتيں اور ان ميں سر فہرست امريکي حکومت جو دسيوں سال سے سياسي اور فوجي حربوں کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقے کي حکومتوں کو اپنا تابع فرمان بنا چکي تھي اور بزعم خود دنيا کے اس حساس علاقے پر بلا شرکت غيرے سياسي، ثقافتي اور اقتصادي تسلط قائم کرنے کا راستہ ہموار کر چکي تھي ، آج اس علاقے کي قوموں کي نفرت و بيزاري کي آماجگاہ بني ہوئي ہيں۔آپ نے فرمايا کہ آج پوري امت مسلمہ اور بالخصوص قيام کرنے والي قوموں کو مربوط استقامت اور ارادوں کے تزلزل سے شديد اجتناب اور عالمي مستکبرين اور ان طاقتوں کے مکر و فريب سے ہوشيار رہنے کي ضرورت ہے جنہيں ان انقلابات اور تحريکوں سے نقصان پہنچا ہے۔قائد انقلاب اسلامي نے اسلامي ممالک ميں نئے نظاموں کي تشکيل اور ساخت ميں کفر و استکبار کے محاذ کي مداخلت کو بہت بڑا خطرہ قرار ديا اور فرمايا کہ دشمن کي حتي المقدور يہي کوشش ہوگي کہ نئے نظاموں کو اسلامي اور عوامي شناخت حاصل نہ ہونے پائے۔قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ اسلامي ممالک کے تمام ہمدرد افراد اور ايسے لوگ جو ملک کي عزت و عظمت اور ترقي و پيشرفت کي آس لگائے بيٹھے ہيں، يہ کوشش کريں کہ نئے نظاموں کي عوامي اور اسلامي ماہيت مکمل طور پر يقيني بن جائے اور اس سلسلے ميں آئين، قومي اتحاد، ديني اقدار، کاميابي کي بنيادي شرطيں ہيں۔ قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ مصر، تيونس، ليبيا اور ديگر ممالک کي شجاع، انقلابي، مجاہد اور بيدار قوميں ياد رکھيں کہ امريکہ اور ديگر مغربي استکباري طاقتوں کے مظالم اور مکر و فريب سے نجات کا انحصار اس بات پر ہے کہ دنيا ميں طاقت کا توازن قوموں کے حق ميں قائم ہو۔ ............/169