2 نومبر 2011 - 20:30

کوئٹہ کے نواحی علاقہ میں پولیس چیک پوسٹ شال کوٹ کے نزدیک ا یران سے واپس آنے والی دو بسوں پر دہشت گردوں نے راکٹوں سے حملہ کر دیا ، خوش قسمتی سے زائرین اس حملہ سے محفوظ رہے.

ابنا: کوئٹہ کے نواحی علاقہ میں پولیس چیک پوسٹ شال کوٹ کے نزدیک ا یران سے واپس آنے والی دو بسوں پر دہشت گردوں نے راکٹوں سے حملہ کر دیا ، خوش قسمتی سے زائرین اس حملہ سے محفوظ رہے ،زائرین کی دو نوں بسیں تفتان سے واپس کوئٹہ آ رہی تھیں کہ دہشت گردوں نے ان پر راکٹ برسائے جو بسوں سے ٹکرائے بغیر گزر گئے ، زائرین کے مطابق ایک بس پر خود کار اسلحہ سے فائرنگ بھی گئی جس سے بس کو نقصان پہچا تاہم تمام زائرین محفوط ہیں،دونوں بسوں میں سوار زائرین کا تعلق کوہاٹ سے ہے، اس وقت ایک بس علمدار روڈ پر کھڑی ہے جبکہ دوسری بس گلگتی امام بارگاہ کوئٹہ میں موجود ہے ۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور ڈپٹی سیکرٹری علامہ محمد امین شہیدی نے اس وحشیانہ کاروائی کی پر زور مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کا تسلسل اور محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی سنگین سازش قرار دیا ہے ۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی دفتر سے جاری ہونے والی ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم کے قائدین نے کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بلوچستان علاقہ میں امن نہیں چاہتی اور اس نے دہشت گردوں اور قانون شکن عناصر کو مذموم کاروائیوں کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ، انہوں نے کہ اٹھائیس دسمبر کو نچاری امام بارگاہ کوئٹہ میں منعقدہ عظمت شہداء کانفرنس میں شامل ملک بھر کے شیعہ علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں و تنظیموں کے مشترکہ علامیہ میں دو ٹوک اعلان کیا گیا تھا کہ اگر دہشت گردی کی وارداتوں پر قابو نہ پایا گیا تو محرم الحرام کے جلوسوں اور عزادری کے دیگر پروگرامومیں ملک بھر میں بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص حکومت سے کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا ، انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ زائرین کی دونوں بسوںکو ہزار گنجی سے ملحقہ شال کوٹ پولیس چیک پوست پر تقریباً ایک گھ نٹہ روک کر اندھیرا پھیلنے کا انتظار کیا گیا او پولیس نے بسوں کا باقاعدہ روٹ کلیئرکیا اور ساتھ ہی پولیس کی ایک وین اور ایک بکٹر بند گاری بھی روانہ کی گئی لیکن راکٹ فائر ہوتے بکتر بند گاڑی اور وین موقع سے غائب ہو گئی ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اور قانوں پر عمل داری کے ذمہ داران خود دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، ایم ڈبلیو ایم کے قائدین نے کہا ملت تشیع اس صورت حال میں حکومت پر کسی بھی صورت میں اعتماد نہیں کر سکتی اور 20 نومبر کے بعد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔.............

/169