1 نومبر 2011 - 20:30

افغانستان کی سکیورٹی سےمتعلق علاقائی اجلاس آج ترکی میں شروع ہوگیا۔

ابنا: اطلاعات کےمطابق ترکی میں آج سےشروع ہونےوالی اس کانفرنس کامقصد افغانستان میں قیام امن میں مدد کرناہے۔اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی مدد کے بغیر اس ملک میں قیام امن کی کوئي امید نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ افغانستان کے امن کے لیے اصل خطرہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جب تک علاقائی تعاون تشکیل نہیں پاتا اس ملک میں قیام امن کی کوئی امید نہیں ہے۔استنبول اجلاس میں علاقائی تعاون کوبہتربنانے، علاقےمیں سکیورٹی کےقیام کی راہوں ، ملکوں کےاقتداراعلی اور ارضی سالمیت اور افغانستان میں قیام امن کی راہوں کےبارےمیں بات چیت ہوگی ۔ علاقے کےچودہ ممالک کےنمائندے استانبول اجلاس میں شریک ہیں۔

اس سےقبل اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ علی اکبرصالحی نےاستنبول ایئرپورٹ پر صحافیوں سےگفتگو میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئےکہ نیٹواورمغربی ممالک نے افغانستان میں قیام امن واستحکام کےلئےسنجیدہ کوششیں نہيں کی ہیں، کہاکہ اغیار افغان عوام کےہمدرد نہيں ہیں۔

ایران کے وزیرخارجہ نےافغانستان کی صورت حال کے بارے میں کہاکہ تیس برسوں سےزیادہ عرصےسےافغانستان، عدم استحکام اوربحران کاشکار ہےاور دہشتگردی کےخلاف جدوجہد کےبہانےافغانستان پرنیٹوکےحملےکودس سال کاعرصہ گذرنےکےباوجود ، اس ملک میں امن وسیکورٹی کی صورت حال بہترنہیں ہوئی ہے اور بےگناہ عوام کا قتل عام مسلسل جاری ہے۔ایران کےوزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان کی صورت حال کےپیش نظرایران وپاکستان سمیت اس کےپڑوسی ممالک اور بعض دوسرے پڑوسی ممالک نےہمیشہ یہ کوشش کی ہےکہ افغانستان کےساتھ اس طرح تعاون کریں کہ اس ملک میں امن واستحکام کےلئےٹھوس اور مؤثر قدم اٹھایاجائے۔صالحی نے استنبول اجلاس کامقصد ایک ایسےمیکانیزم کاحصول قراردیا جس کے اندر سے افغانستان کی مدد کےراستے پیداکئےجائيں جواس ملک کی سیکورٹی کےلئےبھی ہوں اور افغانستان میں فلاح و بہبود کی پیشرفت میں مدد بھی کریں۔...........

/169