اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فارن پالیسی نے قذافی کو ایسا مرد قرار دیا جو بہت زیادہ جانتا تھا (The Man Who Knew Too Much - by David Rieff)۔فارن پالیسی میگزین نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ حد سے زیادہ جانتے تھے اور اگر زندہ ہوتے تو اپنی تمام اطلاعات کو بین الاقوامی عدالت میں فاش کرسکتے تھے جن کا تعلق فرانس کے سرکوزی، اٹلی کے برلوسکونی، مغرب کی خفیہ ایجنسیوں، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، یورپی یونین، تیل کی مغربی کمپنیوں سے تھا۔ فارن پالیسی نے امریکہ کے ساتھ قذافی کے خفیہ تعاون کی طرف اشارہ نہیں کیا اور یہ نہیں بتایا کہ ان کا بارک اوباما سے بھی کوئی تعلق تھا یا نہیں اور کیا انھوں نے اوباما کے الیکشن کیمپین میں بھی "کوئی مالی کردار" ادا کیا تھا یا نہیں۔یادرہے کہ قذافی اپنے آپ کو "افریقہ کا باپ" سمجھتے تھے اور "اوباما کو افریقہ کا افریقہ کا بیٹا" اور یوں وہ اوبا کو اپنا فرزند سمجھتے تھے لیکن ابھی تک اوباما کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات و تعاون کی نوعیت فاش نہیں ہوسکی ہے۔
اگر قذافی اور ان کا بیٹا زندہ رہتے تو ۔۔۔۔فارس خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا رد عمل قابل توجہ ہے جب انہوں نے سنا کہ "غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق قذافی زندہ پکڑے گئے ہیں" تو ان کو شدید تشویش لاحق ہوئی اور کہنے لگیں "اوہ مائی گاڈ ۔۔۔ قذافی پکڑے گئے"۔
ہلیری کلنٹن نے تصویریں دیکھیں اور خبر سنی تو گھبراہٹ کا شکار ہوئیں اور کہا" واو ۔۔۔ غیر مصدقہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ قذافی گرفتار ہوگئے ہیں ۔۔۔ غیر مصدقہ اطلاعات"۔وہ آشفتہ حال ہوگئيں اور کٹے کٹے اور نامکمل جملے بولنے لگیں اور پھر خود کو تسلی دینے کے لئے "غیر مصدقہ اطلاعات" کو دہرانے لگیں گویا وہ ان آخری الفاظ کا سہارا لے رہیں تھیں۔ ویڈیو تصویروں کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں)۔

معتصم گرفتاری کے بعد سیگریٹ کے کش لگارہا ہے

زخمی حالت میں

ایک ہاتھ میں سیگریٹ دوسرے میں پانی


ان چار تصویروں میں بھی معتصم زندہ ہی ہے

اس تصویر میں معتصم کے بدن پر گولیوں کے نشانات ہیں اور جسم بے جان ہے

محض ایک لاش

سوال معتصم کو مارا کیا گیا؟
کیا نچلی تصویر اس سوال کا جواب نہیں ہے؟

جمہوریت کے چیمپئن امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی معتصم قذافی کے ساتھ یادگار تصویر
کہا جاتا ہے کہ جب انہوں سنا کہ قذافی اور ان کا بیٹا زندہ پکڑے گئے ہیں انہیں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ تھا اور وہ بار بار کہہ رہی تھیں کا واقعی وہ زندہ پکڑے گئے ہیں:
یقین نہیں آتا تو دیکھ لیچئے: