23 اگست 2026 - 14:44
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی حقیقت کینیڈین وزیر اعظم کی زبانی

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ہفتے کے روز امریکہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے پر کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے بہت زیادہ مطالبات پیش کئے گئے جبکہ بدلے میں مراعات کے امریکی وعدے بہت کم تھے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کارنی نے کہا کہ امریکہ نے کینیڈا پر محاصل کے ذریعے حملہ کیا ہے اور یہ ایک قسم کی جنگ ہے۔ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی درآمدات کی ایک وسیع رینج پر جوابی محاصل عائد کرے گا، جو ٹرمپ کے 50 فیصد نئے محاصل کے جواب میں ہوں گی۔ ٹرمپ کے نئے محاصل  فرنیچر، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، ملبوسات، مچھلی پکڑنے کے آلات اور ہاکی کے ساز و سامان سمیت متعدد اشیا پر ہیں اور کینیڈا کی امریکہ کو برآمدات کے تقریباً 20 ارب ڈالر کے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔

دو طرفہ مذاکرات پورا ایک ہفتہ جاری رہے، لیکن جمعہ تک کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ ٹرمپ نے ابتدائی مہلت (بدھ) کو چند گھنٹے قبل ہی ملتوی کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ معاہدہ قریب ہے، اور کینیڈا کے وزیر تجارت نے جمعرات کو بھی معاہدے کو "بہت قریب" بتایا تھا۔ تاہم بالآخر معاہدہ نہ ہو سکا اور سینیچر کی صبح سے امریکی محاصل نافذ ہو گئے۔

کارنی نے کہا کہ کینیڈا ہر ڈالر کے جواب میں ڈالر کے حساب سے جوابی محاصل عائد اور نافذ کرے گا تاکہ کینیڈین محنت کشوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباروں کو تحفظ دیا جا سکے۔ ان محاصل کا نشانہ اسٹیل، ڈیری، گھریلو آلات، زرعی آلات، گودا (Pulp)، کاغذ اور الیکٹرانکس ہوں گے۔

کارنی نے واضح کیا کہ امریکی مطالبات بہت زیادہ تھے اور وعدے بہت کم تھے۔ کینیڈا امریکی محاصل کم ہونے کی صورت میں اپنے باقی جوابی محاصل ختم کرنے کو تیار تھا، مگر ٹرمپ انتظامیہ نے آخری لمحات میں غیر معاشی اور غیر منصفانہ شرائط پیش کر دیں، جن میں [دوسرے ممالک کے ساتھ] نئے تجارتی معاہدے کرنے کی کینیڈا کی صلاحیت کو محدود کرنا بھی شامل تھا، جس نے پیشرفت کو روک دیا۔

کارنی نے کہا کہ کینیڈا اگلے ہفتے متاثرہ صنعتوں کے لئے حمایتی اقدامات اور امریکہ کے خلاف مزید محاصل کا اعلان کرے گا۔

انھوں نے توانائی کے شعبے میں کینیڈا کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکہ کی نمو کے لئے ایندھن مہیا کرتا ہے، اور انہیں نہیں لگتا کہ امریکہ چاہے گا کہ کینیڈا اس توانائی کی ترسیل روک دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha