24 اکتوبر 2011 - 20:30

يمن ميں آمريت کے خاتمے کے لئے عوام نے منگل کو ملين مارچ کيا- اسي کے ساتھ مظاہرين پر ڈکٹيٹر کے فوجيوں ميں حملوں ميں متعدد افراد کے مارے جانے کي خبر ہے-

ابنا: يمن ميں انقلابي تحريک کو منظم کرنے والے نوجوانوں کي کميٹي نے کہا ہے کہ دارالحکومت صنعا ميں حکومت کے خلاف ملين مارچ جاري ہے - يہ مظاہرے منگل کي صبح شروع ہوئے جن کے دوران مظاہرين نے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کيا اور کہا کہ اس کو کسي بھي قيمت پر کوئي تحفظ نہيں ديا جائے گا- يہ ايسي حالت ميں ہے کہ پير کو بھي يمن کے مختلف شہروں ميں عبداللہ صالح کے جرائم کي مذمت ميں مظاہرے کئے گئے -

مظاہروں کے دوران يمن کے انقلابيوں نے عوام کے خلاف مظالم ڈھانے اور ان کا قتل عام کرنے کي بنا پر ڈکٹيٹر عبداللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اس کوپھانسي ديئے جانے کا مطالبہ کيا- دوسري طرف يمن کے نوجوانوں نے مغربي يمن کے ساحلي شہرالحديدہ ميں بھي مظاہرہ کرکے مظاہرين کي سرکوبي کے لئے عبداللہ صالح کي حکومت کے لئے دوسرے ملکوں سے آرہے ہتھياروں کي مذمت ميں اس بندرگاہ پر دھرنا ديا - دريں اثنا صنعا اورتعز ميں گذشتہ دو روز کے دوران ہونے والي لڑائيوں ميں کم ازکم سات افراد مارے گئے ہيں- دارالحکومت صنعا ميں شيخ صادق الاحمر قبيلے کے دو افراد مارے گئے جو حکومت کے خلاف بر سرپيکار ہے- صنعا ميں ہي لڑائيوں کے دوران ايک بچہ بھي مارا گيا ہے جبکہ اس کي ماں فائرنگ ميں زخمي ہوگئي- چار افراد تعز ميں بھي يمني سيکورٹي فورس کے ہاتھوں مارے گئے ہيں-

يمن ميں يہ لڑائياں ايک ايسے وقت جاري ہيں جب جمعے کو اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل نے ايک قرارداد پاس کرکے ڈکٹيٹرعبداللہ صالح کي برطرفي اور عوام کي سرکوبي بند کئے جانے کا مطالبہ کيا ہے- مگر مبصرين کا کہنا ہے کہ سلامتي کونسل کي قرارداد کے پاس ہونے کے بعد يمني سيکورٹي فورس کے ہاتھوں عوام کي سرکوبي کے عمل ميں تيزي آگئي ہے- عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ يمني حکومت کے کارندے مظاہرين کو کچلنے کے لئے غيرقانوني ہتھياروں کا بھي استعمال کررہے ہيں يمني سيکورٹي فورس حکومت کےخلاف مظاہرے کرنےوالوں پر فاسفورس بموں کا کھل کر استعمال کررہي ہے -............

/169