23 اکتوبر 2011 - 20:30

گوجرانوالہ (بیورورپورٹ) کلر آبادی مدینہ کالونی میں قیامت برپا،ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد قتل،سفاک درندہ اپنے ہاتھوں سے ماں،باپ اور کمسن بہن بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ابنا:  تفصیل کے مطابق گذشتہ روز رات اڑھائی بجے کے قریب تھانہ باغبانپورہ کے علاقہ کلر آبادی کی ملحقہ آبادی مدینہ کالونی سوئی گیس والی شاہراہ کے رہائشی محمد افضل نامی درندہ صفت نوجوان نے پستول کے ذریعے فائرکر کے یکے بعد دیگرے اپنے والد محمد اصغروالدہ ساجدہ بی بی، بھائی 17 سالہ اقبال، 15 سالہ ساجد،6سالہ عابد اور بہنوں 14سالہ صنم، 4سالہ انعم کو بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔سفاک قاتل نے آٹھ مقتولین کے قتل کی اس بھیانک واردات کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی عیارانہ کوشش کرتے ہوئے خود کو گولی مار کر زخمی کر لیا اور ننھیال کے گھر میں جاکر بتایا کہ تین ڈاکو سارے اہل خانہ کو قتل اور اسے زخمی کرکے فرار ہوگئے ہیں۔قاتل کو ہسپتال روانہ کرنے کے بعد ننھیال والوں نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ تھانہ باغبانپورہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر جائے واردات اور مقتولین کی حالت کا معائنہ کیا تو انہیں صورتحال مشکوک نظر آئی۔ ایڈیشنل SHOاسرار شاہ نے جب سول ہسپتال پہنچ کر قاتل سے پوچھ گچھ شروع کی تو ظالم بھیڑیا فوراً ہی بک پڑا ،اس نے نہ صرف اپنے پیاروں کے خون سے ہاتھ رنگنے کا اعتراف کر لیا بلکہ آلہ قتل کے طور پر استعمال ہونیوالا پستول بھی برآمد کروا دیا ۔ پولیس کی حراست میں اپنے اس شرمناک فعل کی وجہ بیان کرتے ہوئے قاتل بیٹے نے اپنی والدہ پر بدچلنی اور والد پر جواری ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ گھر میں ہونیوالی لڑائی جھگڑوںاور فاقہ کشی سے تنگ آکر اس نے اس مذموم حرکت کا ارتکاب کیا ہے جبکہ اہل علاقہ نے قاتل کے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مقتولہ ساجدہ بی بی کو نیک چلن اور محنت کش خاتون قرار دیا جو فٹبال سلائی کرکے اپنے خاوند کا ہاتھ بٹاتی تھی۔علاوہ ازیں اہل علاقہ نے اس شبہ کا بھی اظہار کیا ہے کہ قاتل نے مقتولین کو قتل کرنے سے پہلے انہیں بے ہوشی کی کوئی دوا بھی دی تھی جس کی حقیقت پوسٹمارٹم رپورٹ میں سامنے آئیگی۔اس قیامت خیز واردات کی اطلاع پر علاقہ میں کہرام مچ گیا،مقتولین کے عزیز واقارب دھاڑیں مار مار روتے رہے،ایک ساتھ پڑی ہوئی8نعشوں کو کندھا دینے کیلئے گھر کا کوئی فرد باقی نہیں بچا تھا ۔اس درد ناک منظردیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔

.....

/110