21 اکتوبر 2011 - 20:30

امریکی صدر باراک اوباما نے کل دنیا اور اپنے ملک کے لوگوں کو یہ خوشخبری سنانے کی کوشش کی کہ جنگ عراق ختم ہوجاۓ گی۔ باراک اوباما نےکہا کہ عراق میں فتح حاصل ہونے کی بناء پر سارے امریکی فوجی عراق سے نکل رہے ہیں۔

ابنا: امریکی صدر نے ٹی وی کیمروں کے سامنے دعوی کیا کہ امریکی فوجی ایسی حالت میں عراق سے نکل رہے ہیں کہ جب عراقی ان کو اپنا ایک متحد اور حامی جانتے ہیں۔ باراک اوباما کے یہ جملے شائد امریکی عوام کے لۓ مرہم کا کام دے سکیں۔ جن کے جنگ عراق میں چار ہزار چار سو فوجی ہلاک ہوۓ ہیں۔ لیکن ان عراقیوں کے لۓ یہ ہر گز مرہم نہیں بن سکتے ہیں جن کے ملک پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے نو برسوں تک کے قبضے کے دوران لاکھوں عراقی مارے گۓ اور اس سے بھی زیادہ تعداد میں زخمی ہوۓ۔ عراقیوں نے برسہا برس تک صدام کے آمرانہ دور حکومت میں زندگي گزاری جسے امریکہ کی ہمہ گیر حمایت حاصل تھی۔ صدام کے زمانے میں عراقیوں کو آٹھ سال تک ایران کے ساتھ جنگ کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس جنگ کو صدام نے اسلامی انقلاب کو ناکام بنانے کے لۓ امریکہ کے حکم پر شروع کیا تھا۔ اور پھر جب یورپ کو صدام کی ضرورت نہ رہی تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بہانے اس ملک پر حملہ کردیا ۔ اور اس مرتبہ عراق کے دسیوں ہزار مرد و خواتین اور بچے اس ملک کے تیل کے ذخائر پر قبضے کرنے کی امریکی کوشش کی بھینٹ چڑھ گۓ۔ لیکن اب عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلاء امریکی صدر کے دعوےکے برخلاف عراق میں امریکی فوجیوں کی کامیابی کی وجہ سے نہیں ہورہا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو عراق اور افغانستان کی جنگوں کی وجہ سے جو بھاری اقتصادی اور سیاسی قیمت ادا کرنا پڑی ہے اسی کی وجہ سے باراک اوباما کی حکومت سنہ دو ہزار آٹھ کو ہونے والے بغداد واشنگٹن سیکورٹی معاہدے پر بغیر کسی بہانے کے عملدرآمد کرنے پر مجبور ہے ۔ امریکی حکومت چودہ ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کی مقروض ہے۔ باراک اوباما اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیا پر فوجی تسلط حاصل کرنے کے سلسلے میں ریپبلیکن پارٹی کی حکومت نے جنگیں شروع کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا اس کی وجہ سے امریکہ کی اقتصادی طاقت کمزور ہوچکی ہے اور ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے امریکہ کی ساکھ بھی متاثر ہوئي ہے۔امریکہ کے ڈیموکریٹ ان جنگوں سے نجات حاصل کر کے ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے اپنے ملک کی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کچھ عرصہ قبل نیویارک کے اقتصادی کلب میں تقریر کرتے ہوۓ کہا تھا کہ اس وقت امریکہ کی سب سے بڑی مشکل ایک فوجی دشمن کی روک تھام نہیں ہے۔ ہلیری کلنٹن نے مزید کہا کہ جس زمانے میں عالمی سطح پر طاقت کو اقتصاد کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے امریکہ کو بھی اپنی عالمی قیادت کے کردار کے تحفظ کے لۓ اپنے اقتصاد کی تقویت کو ترجیح دینی چاہۓ۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا جواز پیش کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے ان کی حکومت اپنے ملک کی بگڑتی ہوئي اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لۓ ماضی سے زیادہ سرگرمی دکھا سکتی ہے۔ امریکہ میں اقتصادی بحران پر قابو پانے میں باراک اوباما کی ناکامی کی وجہ سے آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی کامیابی کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔ اوباما جنگ عراق کو ختم کرکے انتخابی مہم کے دوران کۓ گۓ اپنے ایک وعدے کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس کے ذریعے وہ امریکی ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کے دعوے کے برخلاف عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا سبب امریکہ کی فتح نہیں ہے بلکہ امریکہ میں سنہ دوہزار بارہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی شکست کی روک تھام سے مقصد سے انجام دیا جانے والا اقدام ہے۔........... /169