15 اکتوبر 2011 - 20:30

مایوسی، خوف، اور لاوارث یہ وہ الفاظ ہیں جس نے پوری ملت کو گھیرا ہوا ہے، باہمی اتحاد کی کمی تو جیسے فُرصت سے میری ملت کے پیچھے ہی پڑگئی، اور رہی سہی کسر میں نے پوری کردی کے اپنی تحریر آپ کے سامنے لے کے بیٹھ گیا.

ابنا: مایوسی، خوف، اور لاوارث یہ وہ الفاظ ہیں جس نے پوری ملت کو گھیرا ہوا ہے، باہمی اتحاد کی کمی تو جیسے فُرصت سے میری ملت کے پیچھے ہی پڑگئی، اور رہی سہی کسر میں نے پوری کردی کے اپنی تحریر آپ کے سامنے لے کے بیٹھ گیا.

سوچ کے سچ کہو تو کبھی کبھی تو بے ساختہ چیخ اُٹھتا ہو کے، اے بیداری میری ملت تجھ سے ناراض ہے کیونکہ تو محنت بہت کرواتی ہے، ملت تو تیرے پاس آتی نہیں تو خود ہی ملت کے پاس آجا،مگر بیداری بھی شاید میری بات کو اہمیت نہیں دیتی سب کی طرح،میں تو شکر ادا کرتا ہو کے عارف الحسینی شہید پوگئے ملت کو اس حالت میں دیکھتے تو ناجانے کیا ہوتا؟

مندرجہ بالا پیراگراف ہی ملت کی اس حالت کی وجہ ہے، مایوسی، خوف، اور لاوارث، ان الفاظ کا ورد کرکرکے شیر کے بچے کو غلام بنادیا ہے، کاش اتنا ورد اگر اللہ کے نام کا کیا ہوتا تو کچھ ثواب ہی مل جاتا، اُمید کا لفظ تو ملت تشیع کی کتاب سے ایسا غائب کردیا گیا ہے جیسے بعذ نام نہاد مفتیوں کی کتابوں سے تزکرہ آیت تطہیر

ایسی ملت جس میں 70 فیصد نوجوان ہے اس کے درمیان مایوسی ۔۔۔۔۔۔ سوچ کے بھی عجیب لگتا ہے،زولفقار کے وارث لاوارث ناممکن، دُعائے زہرا(ع) کی دُعا میں اثر نہیں ناممکن، مختار کی آواز میں اب للکار نہیں ناممکن، کربلا کے خادم جو پوری انسانیت کو اُس کا حق دینے کی ہمت رکھتے ہے آج اُن میں ہمت نہیں ناممکن، جس ملت میں بچے کی پرورش پنجتن کے نام سے شروع ہوتی ہوں، اور شرافت کی پہچان حسین کا ماتم بن جائے وہاں کمزوری ناممکن،جس قوم کے پاس ناد علی کا تعفہ ہوں، وہاں خوف ناممکن، جس قوم کا پانچ سال کا بچہ علم تھام کر دھوپ میں 5 گھنٹے تک کھڑا رہے، وہ ملت تھک جائے، ناممکن، اب اس ملت کو مایوسی، خوف، اور لاوارث جیسے الفاظ کی ضرورت نہیں ۔ یہ ملت اگر عزاداری اور ملت سے وفاداری یہ دو کام خلوص نیت سے کرلے تو تمام مکاری اہنی موت مرجائے گی

 تحریر: علی نثار کی

/169

............