ابنا: اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز دنیا کے پینتالیس ملکوں میں کروڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرکے سماجی عدم مساوات اور سماج میں طبقاتی نظام اور عدل و انصاف کے فقدان کے خلاف احتجاج کیا۔ یاد رہے اسپین کے جوان اس تحریک کے پیشرو ہیں جنہوں نے اپنے ملک میں اس تحریک کو جاری رکھا۔ اس تحریک کو عرب ملکوں میں جاری تحریکوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، وال اسٹریٹ پر قبضہ کی تحریک اب امریکہ سے مخصوص نہیں رہی بلکہ سارے یورپ اور دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی ہورہی ہے۔ لندن میں اس سلسلے کا سب سےبڑا مظاہرہ ہوا ہے جس میں امریکی عوام کی حمایت کی گئي ہے۔ لندن اور اسپین میں ایک ساتھ مظاہرے ہوئےہیں اور عوام نے بھرپور طرح سے سرمایہ دارانہ نظام کی مذمت کی ہے۔ لندن میں شروع ہونے والی تحریک لندن کو تسخیر کرو، کے منتظمین نے یہ کہا ہے کہ یہ مظاہرے سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے کئے گئےہیں جو کہ دنیا میں عدم مساوات کا باعث ہیں۔ لندن مظاہروں کی اپیل میں کہا گيا تھا کہ یہ مظاہرے عالمی تحریک کے تحت ہورہے ہیں اور ہم کسی گروہ یا فرقے کے حامی نہیں ہیں اور ہم دنیا میں ننانوے فیصد ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں غربت اور امتیازی پالیسیاں، ٹیکسوں میں اضافہ، اور رفاہ عامہ کے منصوبوں میں کمی سے سماج کے کمزور طبقوں کی زندگي اجیرن ہوکر رہ گئي ہے اور وہ اپنی حکومتوں کی غیر منطقی اقتصادی پالیسوں کی مذمت کررہے ہیں۔ اب وال اسٹریٹ احتجاج سرمایہ داری کے خلاف عالمی تحریک میں تبدیل ہوچکا ہے اور اب یورپ کے عوام نے بھی وال اسٹریٹ احتجاج کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اپنے ملکوں میں اسٹاک اسکچینج کے اطراف مظاہرے کرنے شروع کردئےہیں۔ ان مظاہروں شرکت کرنے والے جوان خود کو برہم قوم کے نام سے یاد کررہے ہیں جنہیں معاشرے میں عدل و انصاف کی توقع ہے لیکن ان کے سیاست دان اس امر پرتوجہ نہیں کرتے ہیں۔ دراصل امریکہ اور یورپ میں ہونے والے مظاہروں میں ایک ہی بات دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ کہ مظاہرین اپنی بگڑتی ہوئي معاشی صورتحال سے نالاں ہیں اور سرمایہ داری کو اس کا ذمہ دار قراردے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ان کی تمام مشکلیں لیبرل ڈیموکریسی اور سرمایہ داری کی سوغات ہیں۔.......... /169
15 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 272276
وال اسٹریٹ پرقبضہ کرو احتجاج سارے یورپ اور یورپ سے بڑھ کر ساری دنیا میں پھیل گيا ہے۔