ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رضاکار اور جوان اس مشکل گھڑی میں سیلاب متاثرین کی داد رسی کے لیے بے لوث خدمت کررہے ہیں انشااللہ راشن اور خیمہ جات کی مزیدکھیپ جلد سندھ کے متاثرہ علاقوں میں بھجوائی جائے گی ان خیالات کا اظہار نثار فیضی مرکزی مسل خیر العمل فانڈیشن پاکستان، نے ادارے کے ایگزیکٹو ممبران کے خصوصی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پچھلے سال سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر 200گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حجتہ الاسلام والمسلمین محمد امین شہید ی ،مرکزی سیکرٹری امور جوانان حجتہ الاسلام والمسلمین شیخ اعجاز حسین بہشتی ،صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب حجتہ الاسلام والمسلمین محمد اصغر عسکری ،صوبائی سیکرٹری فلاح بہبودپنجاب توصیف نقوی ،ایگزیکٹو ممبران مسرور نقوی اور اعجاز رضوی نے شرکت کی ۔ شرکااجلا س نے سند ھ میں جاری قومی سطح پر امدادی کاموں کی مجموعی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور میڈیا ، حکومت ، فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کی اس بڑے قدرتی آفت کے نقصان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی طرف صحیح توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس وقت قوم کہیں سیلاب سے متاثر ہے ،کہیں ڈینگی وائریس کا حملہ ، کہیں ٹارگٹ کلنگ ، کہیں معاشی بدحالی ، اور کہیں امریکی دبا اور وطن کی سالمیت و استحکام کو کمزور کرنے کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔ شرکااجلاس نے کوئٹہ میں جاری نہتے انسانوں،مزدوروں اور مسافروںکی ٹارگٹ کلنگ کے پے درپے واقعات کی بھر پور مذمت کی اور تمام ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اس طرح کی انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرنے والی ظالمانہ کاروائی کے خلاف بھر پور آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں سیلاب ذدہ علاقوں میں مکانات اور مساجد کی تعمیر کے منصوبے کے طریقے کار پر بھی گفتگو ہوئی اور تما م متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کا ضابطہ اخلاق بھی طے پایا۔اجلاس میں متاثرہ علاقوں میں کیے گئے سروے کے نتیجے اکھٹے کیے گئے اعداد شمارپیش کیے گئے جس کی روشنی میں ضروریات کا جائزہ بھی لیا گیا۔اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ تعمیرکے لیے امیدواروں اور علاقوںکا تعین صوبہ جات اپنی کابینہ کی مشاورت سے کر یں گے جبکہ تعمیرات کے امیدواروں کا استحقاق کمپیوٹرسافٹ ویئر کے زریعے سے فائنل کیا جائے گا۔اس سارے عمل کو پیشہ ورانہ اور معیاری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ماہرین کی خدمات لی جائیں گی۔ اجلاس میں ایگزیکٹو باڈی کے اراکین کا سیلاب ذدہ علاقوں میں فوری دورے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلا س میں گلگت میں پچھلے سال آنے والی بارشوں کے نتیجے میںسیلاب سے نقصان پانے والے دیہات جگلوٹ گور میں بھی تعمیرات کے حوالے سے پیش رفت کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
...........
/169