ابنا: مصر ميں حکمراں فوجي کونسل نے مذہبي گروہوں منمجلہ اخوان المسلمين پر اپنا دباؤ بڑھاتے ہوئے انتخابات ميں مذہبي نعروں کے استعمال پر پابندي عائد کردي ہے - مصر کي آزادي اور انصاف پارٹي کے ايک سينئر ليڈر محمد البلتاجي نے فوجي کونسل کے اس فيصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اخوان المسلمين کا نعرہ ہماري زندگي کي اسٹريٹجي اور حکمت عملي ہے اگرچہ اسے ہرحال ميں ايک انتخابي نعرہ قرار نہيں ديا جاسکتا - انہوں نے کہاکہ ممکن ہے کہ ہم اس نعرے کو انتخابات ميں استعمال نہ کريں ليکن اسے ترک نہيں کرسکتے- مصر کے اس سياسي رہنما نے کہاکہ ہم اس نعرے کي جگہ دوسرا نعرہ بھي استعمال کرسکتے ہيں اور انتخابات ميں اس نعرے پر نظرثاني بھي کرسکتے ہيں - مصرکے سابق ڈکٹيٹر حسني مبارک کے دور اقتدار ميں اخوان المسلمين پر انتخابات ميں حصہ لينے پر پابندي تھي ليکن اس جماعت کے اميدوار آزاد اميد وار کي حيثيت سے انتخابات ميں شرکت کرتےتھے اور وہ اپنے انتخابي بينروں اور پوسٹروں پر اپنے مشہور سلوگن اور نعروں کے ذريعے ہي پہچانے جاتے تھے- اب جبکہ مصر کي حکمراں فوجي کونسل نے مذہبي نعروں کے استعمال پر پابندي لگادي ہے اخوان المسلمين اور اس سے ہم آہنگ جماعتوں کے کارکن مطالبہ کررہے ہيں کہ وہ فوجي کونسل کے اس فيصلے کي پروا نہ کرتے ہوئے اپنے روايتي نعروں کا ہي استعمال کريں-مصر ميں انتخابات اٹھائيس نومبر کو کرائے جانےوالے ہيں اور نومنتخب پارليمنٹ ملک کے بنيادي آئين کي تدوين کے لئے ايک کميٹي تشکيل دے گي اور يہ کميٹي آئندہ چھ مہينے ميں ملک کا نيا آئين تيار کرے گي اور اس کے بعد اس آئين پر ريفرنڈم ہوگا اور پھر اس کے دو مہينے بعد صدارتي انتخابات کرائے جائيں گے- مصر کي فوجي کونسل نے گيارہ فروري کو اقتدار سے حسني مبارک کي معزولي کے بعد ملک کي باگ ڈور اپنے ہاتھ ميں لے لي تھي -
..........
/169