7 اکتوبر 2011 - 20:30

فرمایا کہ اے دعبل چونکہ آج یوم عاشوراہے اوریہ دن ہمارے لیے انتہائی رنج وغم کادن ہے لہذا تم میرے جد مظلوم حضرت امام حسین علیہ السلام کے مرثیہ سے متعلق کچھ شعرپڑھ کر سناؤ۔

ابنا: جابربن عبداللہ انصاری اورحضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں سمع حدیث کے واقعات تمام احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں ،اسی طرح ابوالطفیل عامری اورسعیدین جبیرآخری صحابہ کی تفصیل حالات جوان بزرگون کے حال میں پائے جاتے ہیں وہ سیروتواریخ میں مذکورومشہورہیں صحابہ کے بعدتابعین اورتبع تابعین اوران لوگوں کی فیض یابی کی بھی یہی حالت ہے ،شعبی ،زہری، ابن قتیبہ ،سفیان ثوری،ابن شیبہ ،عبدالرحمن ،عکرمہ،حسن بصری ،وغیرہ وغیرہ یہ سب کے سب جواس وقت اسلامی دنیامیں دینیات کے پیشوااورمقدس سمجھے جاتے تھے ان ہی بزرگوں کے چشمہ فیض کے جرعہ نوش اورانہی حضرات کے مطیع وحلقہ بگوش تھے ۔ جناب امام رضاعلیہ السلام کواتفاق حسنہ سے اپنے علم وفضل کے اظہارکے زیادہ موقع پیش آئے کیوں کہ مامون عباسی کے پاس جب تک دارالحکومت مروتشریف فرمارہے، بڑے بڑے علماء وفضلاء علوم مختلفہ میں آپ کی استعداداور فضیلت کااندازہ کرایاگیااورکچھ اسلامی علماء پرموقوف نہیں تھا بلکہ علماء یہودی ونصاری سے بھی آپ کامقابلہ کرایاگیا،مگران تمام مناظروں ومباحثوں مین ان تمام لوگوں پرآ پ کی فضیلت وفوقیت ظاہرہوئی،خودمامون بھی خلفائے عباسیہ میں سب سے زیادہ اعلم وافقہ تھا باوجوداس کے تبحرفی العلوم کالوہامانتاتھا اورچاروناچاراس کااعتراف پراعتراف اوراقرارپراقرارکرتاتھا چنانچہ علامہ ابن حجرصواعق محرقہ میں لکھتے ہیں کہ آپ جلالت قدرعزت وشرافت میں معروف ومذکورہیں ،اسی وجہ مامون آپ کوبمنزلہ اپنی روح وجان جانتاتھا اس نے اپنی دخترکانکاح آنحضرت علیہ السلام سے کیا،اورملک ولایت میں اپناشریک گردانا، مامون برابرعلماء ادیان وفقہائے شریعت کوجناب امام رضاعلیہ السلام کے مقابلہ میں بلاتااورمناظرہ کراتا،مگرآپ ہمیشہ ان لوگوں پرغالب آتے تھے اورخودارشادفرماتے تھے کہ میں مدینہ میں روضہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھتا،وہاں کے علمائے کثیرجب کسی علمی مسئلہ میں عاجزآجاتے توبالاتفاق میری طرف رجوع کرتے،جواب ہائے شافی دےکران کی تسلی وتسکین کردیتا۔        ابوصلت ابن صالح کہتے ہیں کہ حضرت امام علی بن موسی رضاعلیہماالسلام سے زیادہ کوئی عالم میری نظرسے نہیں گزرا، اورمجھ پرموقوف نہیں جوکوئی آپ کی زیارت سے مشرف ہوگا وہ میری طرح آپ کی اعلمیت کی شہادت دے گا۔حضرت امام رضا علیہ السلام اورمجلس شہداء کربلاعلامہ مجلسی بحارالانوارمیں لکھتے ہیں کہ شاعرآل محمد،دعبل خزاعی کابیان ہے کہ ایک مرتبہ عاشورہ کے دن میں حضرت امام رضاعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا،تودیکھاکہ آپ اصحاب کے حلقہ میں انتہائی غمگین وحزیں بیٹھے ہوئے ہیں مجھے حاضرہوتے دیکھ کر فرمایا،آؤآؤہم تمہاراانتظارکررہے ہیں میںقریب پہنچاتوآپ نے اپنے پہلومیں مجھے جگہ دے کر فرمایا کہ اے دعبل چونکہ آج یوم عاشوراہے اوریہ دن ہمارے لیے انتہائی رنج وغم کادن ہے لہذا تم میرے جد مظلوم حضرت امام حسین علیہ السلام کے مرثیہ سے متعلق کچھ شعرپڑھو،اے دعبل جوشخص ہماری مصیبت پرروئے یارلائے اس کااجرخداپرواجب ہے ،اے دعبل جس شخص کی آنکھ ہمارے غم میں ترہو وہ قیامت میں ہمارے ساتھ محشورہوگا ، اے دعبل جوشخص ہمارے جدنامدارحضرت سیدالشہداء علیہ السلام کے غم میں روئے گا خدااس کے گناہ بخش دے گا۔  یہ فرما کر امام علیہ السلام نے اپنی جگہ سے  اٹھ کر پردہ کھینچااورمخدرات عصمت کوبلاکراس میں بٹھادیاپھرآپ میری طرف مخاطب ہو کر فرمانے لگے  ہاں دعبل! ابے میرے جدامجدکامرثیہ شروع کرو، دعبل کہتے ہیں کہ میرادل بھرآیااورمیری آنکھوں سے آنسوجاری تھے اورآل محمدمیں رونے کاکہرام عظیم برپاتھا صاحب درالمصائب تحریرفرماتے ہیں کہ دعبل کامرثیہ سن کرمعصومہ قم جناب فاطمہ ہمیشرہ حضرت امام رضاعلیہ السلام اس قدرروئیں کہ آپ کوغش آگیا۔ اس اجتماعی طریقہ سے ذکرحسینی کومجلس کہتے ہیں اس کاسلسلہ عہدامام رضامیں مدینہ سے شروع ہوکرمروتک جاری رہا،علامہ علی نقی لکھتے ہیں کہ اب امام رضاعلیہ السلام کوتبلیغ حق کے لیے نام حسین کی اشاعت کے کام کوترقی دینے کابھی پوراموقع حاصل ہوگیاتھا جس کی بنیاداس کے پہلے حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اورامام جعفرصادق علیہ السلام قائم کرچکے تھے  مگروہ زمانہ ایساتھا کہ جب امام کی خدمت میں وہی لوگ حاضرہوتے تھے جوبحیثیت امام یابحیثیت عالم دین آپ کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے اوراب امام رضاعلیہ السلام توامام روحانی بھی ہیں اورولی عہدسلطنت بھی، اس لیے آپ کے دربارمیں حاضرہونے والوں کادائرہ وسیع ہے۔ مرو،وہ مقام ہے جوایران کے تقریبا وسط میں واقع ہے ہرطرف کے لوگ یہاں آتے ہیں اوریہاں یہ عالم کہ ادھر محرم کاچاند نکلااورآنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے دوسروں کوبھی ترغیب وتحریص کی جانے لگی کہ آل محمدکے مصائب کویادکرواوراثرات غم کوظاہرکرو یہ بھی ارشادہونے لگا کہ جواس مجلس میں بیٹھے جہاں ہماری باتیں زندہ کی جاتی ہیں اس کادل مردہ نہ ہوگااس دن کے جب سب کے دل مردہ ہوں گے۔ تذکرہ امام حسین کے لیے جومجمع ہو،اس کانام اصطلاحی طورپرمجلس اسی امام رضاعلیہ السلام کی حدیث سے ہی ماخوذہے  آپ نے عملی طورپربھی خودمجلسیں کرنا شروع کردیں جن میں کبھی خودذاکرہوئے اوردوسرے سامعین جیسے ریان بن شبیب کی حاضری کے موقع پرآپ نے مصائب امام حسین علیہ السلام بیان فرمائے اورکبھی عبداللہ بن ثابت یادعبل خزاعی ایسے کسی شاعرکی حاضری کے موقع پراس شاعرکوحکم ہواکہ تم ذکرامام حسین میں اشعارپڑھووہ ذاکرہوا، اورحضرت سامعین میں داخل ہوئے الخ۔مامون کی طلبی سے قبل امام علیہ السلام کی روضہ رسول پرفریادابومخنف بن لوط بن یحی خزاعی کابیان ہے کہ حضرت امام موسی کاظم کی شہادت کے بعد ۱۵/ محرم الحرام شب یک شنبہ کوحضرت امام رضاعلیہ السلام نے روضہ رسول خداپرحاضری دی وہاں مشغول عبادت تھے کہ آنکھ لگ گئی، خواب میں دیکھاکہ حضرت رسول کریم بالباس سیاہ تشریف لائے ہیں اورسخت پریشان ہیں امام علیہ السلام نے سلام کیاحضورنے جواب سلام دے کرفرمایا،ائے فرزند،میں اورعلی وفاطمہ ،حسن وحسین سب تمہارے غم میں نالاں وگریاں ہیں اورہم ہی نہیں فرزندم زین العابدین ،محمدباقر،جعفرصادق اورتمہارے پدرموسی کاظم سب غمگین اوررنجیدہ ہیں،ائے فرزندعنقریب مامون رشیدتم کوزہرسے شہیدکرے گا،یہ دیکھ کرآپ کی آنکھ کھل گئی ،اورآپ زارزاررونے لگے پھرروضہ مبارک سے باہرآئے ایک جماعت نے آپ سے ملاقات کی اورآپ کوپریشان دیکھ کرپوچھاکہ مولااضطراب کی وجہ کیاہے فرمایاابھی ابھی جدنامدارنے میری شہادت کی خبردی ہے ائے ابوصلت دشمن مجھے شہیدکرناچاہتاہے اورمیں خداپربھروسہ کرتاہوں جومرضی معبودہووہی میری مرضی ہے اس خواب کے تھوڑے عرصہ بعد مامون رشیدکالشکرمدینہ پہنچ گیااوروہ امام علیہ السلام کو اپنی سیاسی غرض کرنے کے لیے وہاں سے دارالخلافت ”مرو“ میں لے آیا(کنزالانساب ص ۸۶) ۔امام رضاعلیہ السلام کی مدینہ سے مرومیں طلبی  علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حالات کی روشنی میں مامون نے اپنے مقام پریہ قطعی فیصلہ اورعزم بالجزم کرلینے کے بعد کہ امام رضاعلیہ السلام کوولیعہد خلافت بنائے گا اپنے وزیراعظم فضل بن سہل کوبلابھیجا اوراس سے کہاکہ ہماری رائے ہے کہ ہم امام رضاکوولی عہدی سپردکردیں تم خودبھی اس پرسوچ وبچارکرو، اوراپنے بھائی حسن بن سہل سے مشورہ کروان دونوں نے آپس میں تبادلہ خیال کرنے کے بعد مامون کی بارگاہ میں حاضری دی، ان کامقصدتھا کہ مامون ایسانہ کرے ورنہ خلافت آل عباس سے آل محمدمیں چلی جائے گی ان لوگوں نے اگرچہ کھل کرمخالفت نہیں کی،لیکن دبے لفظوں میں ناراضگی کااظہارکیا مامون نے کہاکہ میرا فیصلہ اٹل ہے اورمیں تم دونوں کو حکم دیتاہوں کہ تم مدینہ جاکرامام رضاکواپنے ہمراہ لاؤ(حکم حاکم مرگ مفاجات) آخرکاریہ دونوں امام رضاکی خدمت میں مقام مدینہ منورہ حاضرہوئے اورانہوں نے بادشاہ کاپیغام پہنچایا۔     حضرت امام علی رضانے اس عرضداشت کومستردکردیااورفرمایاکہ میں اس امرکے لیے اپنے کوپیش کرنے سے معذورہوں لیکن چونکہ بادشاہ کاحکم تھا کہ انہیں ضرورلاؤ اس لیے ان دونوں نے بے انتہااصرارکیااورآپ کے ساتھ اس وقت تک لگے رہے جب تک آپ نے مشروط طورپروعدہ نہیں کرلیا (نورالابصارص ۴۱) ۔امام رضاعلیہ السلام کی مدینہ سے روانگی       تاریخ ابوالفداء میں ہے کہ جب امین قتل ہواتومامون سلطنت عباسیہ کامستقل بادشاہ بن گیایہ ظاہرہے کہ امین کے قتل ہونے کے بعد سلطنت مامون کے پائے نام ہوگئی مگریہ پہلے کہاجاچکاہے کہ امین ننہیال کی طرف سے عربی النسل تھا ،اورمامون عجمی النسل تھا امین کے قتل ہونے سے عراق کی عرب قوم اورارکان سلطنت کے دل مامون کی طرف سے صاف نہیں ہوسکتے تھے بلکہ وہ ایک غم وغصہ کی کیفیت محسوس کرتے تھے دوسری طرف خودبنی عباس میں سے ایک بڑی جماعت جوامین کی طرف دارتھی اس سے بھی مامون کوہرطرح خطرہ لگاہواتھا۔       اولادفاطمہ میں سے بہت سے لوگ جووقتافوقتابنی عباس کے مقابل میں کھڑے ہوتے رہتے تھے وہ خواہ قتل کردیے گئے ہوں یاجلاوطن کئے گئے ہوں یاقید رکھے گئے ہوں ان کے موافق جماعت تھی جواگرچہ حکومت کاکچھ بگاڑنہ سکتی تھی مگردل ہی دل میں حکومت بن عباس سے بیزارضرورتھی ایران میں ابومسلم خراسانی نے بنی امیہ کے خلاف جواشتعال پیداکیاوہ ان مظالم ہی کویاددلاکرجوبنی امیہ کے ہاتھوں حضرت امام حسین علیہ السلام اوردوسرے بنی فاطمہ کے ساتھ کیے تھے اس سے ایران میں اس خاندان کے ساتھ ہمدردی کاپیداہونافطری تھا درمیان میں بنی عباس نے اس سے غلط فائدہ اٹھایامگراتنی مدت میں کچھ نہ کچھ توایرانیوں کی آنکھیں بھی کھل گئی ہوں گی کہ ہم سے کہاگیاتھاکیااوراقتدارکن لوگوں نے حاصل کرلیا، ممکن ہے ایرانی قوم کے ان رجحانات کا چرچامامون کے کانوں تک بھی پہنچاہواب جس وقت کہ ا مین کے قتل کے بعد وہ عرب قوم پراوربنی عباس کے خاندان پربھروسہ نہیں کرسکتاتھا اوراسے ہروقت اس حلقہ سے بغاوت کااندیشہ تھا،تواسے سیاسی مصلحت اسی میں معلوم ہوئی کہ عرب کے خلاف عجم اوربنی عباس کے خلاف بنی فاطمہ کواپنالیاجائے،اورچونکہ طرزعمل میں خلوص سمجھانہیں جاسکتا اوروہ عام طبائع پراثرنہیں ڈال سکتااگریہ نمایاں ہوجائے کہ وہ سیاسی مصلحتوں کی بناپرہے اس لے ضرورت ہوئی کہ مامون مذہبی حیثیت سے اپنی شیعت نوازی اورولائے اہلبیت کے چرچے عوام کے حلقوں میں پھیلائے اوریہ دکھلائے کہ وہ انتہائی نیک نیتی پرقائم ہے اب ”حق بہ حقدار رسید“ کے مقولہ کوسچابناناچاہتاہے۔     اس سلسلہ میں جناب شیخ صدوق اعلی اللہ مقامہ نے تحریرفرمایاہے کہ اس نے اپنی زندگی کی حکایت بھی شائع کی کہ جب امین کااورمیرامقابلہ تھا،اوربہت نازک حالت تھی اورعین اسی وقت میرے خلاف سیستان اورکرمان میں بھی بغاوت ہوگئی تھی اورخراسان میں بھی بے چینی پھیلی ہوئی تھی اورفوج کی طرف سے بھی اطمینان نہ تھا اوراس سخت اوردشوارماحول میں ،میں نے خداسے التجاکی اورمنت مانی کہ اگریہ سب جھگڑے ختم ہوجائیں اورمیں بام خلافت تک پہنچوں  تواس کواس کے اصل حقداریعنی اولادفاطمہ میں سے جواس کااہل ہے اس تک پہنچاد